میر رضا قتل
|

میر رضا قتل کیس: اہل خانہ کا سندھ حکومت سے رابطہ، جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کا فیصلہ

کراچی: نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،مقتول کے اہل خانہ نے سندھ حکومت سے رابطہ کرکے پولیس کی تفتیشی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد اہل خانہ کی درخواست پر جوڈیشل کمیشن قائم نہیں کیا جا رہا۔

ذرائع سندھ حکومت کے مطابق متضاد رپورٹس سامنے آنے کے باعث سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا، مقتول میر رضا کے اہل خانہ نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست نہیں کی تھی۔

دوسری جانب میر رضا کیس کی پرانی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ایس ایس پی ایس آئی یو سمیع اللہ سومرو اور ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ نے ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن برانچ کو نئی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے اب تک ہونے والی تفتیش سے متعلق مکمل اور جامع بریفنگ دی۔

بریفنگ کے بعد دونوں افسران ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن برانچ کے دفتر سے روانہ ہوگئے۔میر رضا کیس کے وکیل جبران ناصر بھی ڈی آئی جی کرائم برانچ کے دفتر پہنچے جبکہ مقتول کے والد، والدہ اور بہن بھی دفتر میں موجود رہے۔

فرانزک سیمپلز تاحال لیبارٹری نہ پہنچ سکے

دوسری جانب میر رضا قتل کیس میں قبر کشائی کے بعد حاصل کیے گئے فرانزک سیمپلز کے حوالے سے بھی پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔ذرائع کے مطابق قبر کشائی کے دوران ہفتے کے روز 17 سیمپلز حاصل کیے گئے تھے، جبکہ مقتول کے والدین کے بھی دو ڈی این اے سیمپلز لیے گئے تھے، دو روز گزرنے کے باوجود یہ نمونے جامعہ کراچی کی فرانزک لیب میں ٹیسٹنگ کے لیے نہیں پہنچ سکے۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق تمام سیمپلز تفتیشی افسر کے حوالے کر دیے گئے تھے، سیمپلز کو متعلقہ لیبارٹری تک پہنچانا کیس کے تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے۔

ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ پوسٹ مارٹم سے متعلق پولیس سرجن آفس کا کام مکمل ہوچکا ہے، اب مزید ٹیسٹنگ کا کام جامعہ کراچی کی فرانزک لیب میں ہونا ہے۔

نئے تفتیشی افسر کو سیمپلز سے متعلق معلومات نہیں

میر رضا قتل کیس کے موجودہ تفتیشی افسر غضنفر علی نے بتایا کہ انہیں گزشتہ روز ہی تحقیقاتی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے اور وہ گزشتہ انکوائری کمیٹی کا حصہ نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ سیمپلز کے حوالے سے انہیں فی الحال معلومات نہیں ہیں جبکہ نئی تحقیقاتی کمیٹی کی باقاعدہ انکوائری کا آغاز آج سے ہوگا، جس کے بعد ہی وہ مزید تفصیلات بتانے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

ادھر جامعہ کراچی کی فرانزک لیب کے حکام نے تصدیق کی کہ تاحال میر رضا کیس کے سیمپلز لیبارٹری کو موصول نہیں ہوئے۔

فرانزک لیب حکام کے مطابق لیبارٹری ہفتے کے روز سے سیمپلز اور ڈی این اے نمونوں کی منتظر ہے اور جیسے ہی نمونے موصول ہوں گے، ان کی ٹیسٹنگ کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

میر رضا کیس میں ایک طرف نئی تحقیقاتی کمیٹی نے تفتیش کا آغاز کردیا ہے جبکہ دوسری جانب فرانزک شواہد کی منتقلی اور ٹیسٹنگ کا عمل تاحال شروع نہ ہونے کے باعث تحقیقات میں مزید تاخیر کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *