ایران میں اسکول
|

ایران میں اسکول اور اسپورٹس کمپلیکس پر امریکی حملے جنگی جرائم ہیں، اقوام متحدہ

جنیوا: اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل انڈیپنڈنٹ فیکٹ فائنڈنگ مشن نے کہا ہے کہ اس کے پاس یہ سمجھنے کے لیے معقول شواہد موجود ہیں کہ فروری میں ایران میں ایک اسکول اور اسپورٹس کمپلیکس پر ہونے والے 2 حملوں کے پیچھے امریکی افواج تھیں اور یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آ تے  ہیں۔

اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی نئی رپورٹ میں فروری میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں جبکہ گزشتہ برس دسمبر کے اواخر میں شروع ہونے والی ملک گیر بدامنی سے نمٹنے کے لیے ایرانی حکومت کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مشن کو ایسے شواہد ملے ہیں جن کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع شجرہ طیبہ پرائمری اسکول پر حملے کے ذمہ دار امریکی فوجی تھے، اسکول پر حملے میں بڑی تعداد میں شہری، جن میں بچے بھی شامل تھے، ہلاک ہوئے۔

اقوام متحدہ کے مشن نے کہا کہ دستیاب شواہد کے مطابق حملے میں شہریوں کی ہلاکت اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، جو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرم بن سکتا ہے،اسکول پاسداران انقلاب کے ایک کمپلیکس کے قریب واقع تھا، مشن کے مطابق اسکول واضح طور پر ایک شہری عمارت کے طور پر شناخت کیا جا سکتا تھا اور اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے اپنے ٹارگٹنگ ڈیٹا میں اسکول سے متعلق معلومات کو اپ ڈیٹ نہ کرنا اور حملے سے قبل یہ تصدیق نہ کرنا کہ عمارت فوجی ہدف ہے یا نہیں، معمولی غفلت سے کہیں بڑھ کر معاملہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی کارروائی میں شہری عمارت کو نشانہ بننے کے نمایاں خطرے اور اس کے ممکنہ نتائج کے باوجود انتہائی لاپروائی کا مظاہرہ کیا گیا۔فیکٹ فائنڈنگ مشن نے ایران کے شہر لامرد میں ایک اسپورٹس سینٹر پر ہونے والے حملے کا بھی جائزہ لیا، حملے کے نتیجے میں قریبی رہائشی عمارتوں اور ایک اسکول کو شدید نقصان پہنچا جبکہ 22 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔

مشن نے دستیاب شواہد کی بنیاد پر اس واقعے کو بھی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی اور ممکنہ جنگی جرم قرار دیا ہے،امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے مارچ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے مذکورہ روز لامرد شہر پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ میں ایرانی حکومت کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کے لیے کیے گئے مہلک کریک ڈاؤن کے دوران ایرانی حکام کی جانب سے بھی ایسے اقدامات کیے گئے جنہیں مشن نے انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کا فیکٹ فائنڈنگ مشن اس سے قبل بھی ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال، بالخصوص احتجاجی تحریکوں کے دوران ہونے والی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور شواہد کے تحفظ کا کام کرتا رہا ہے۔

رپورٹ میں امریکی فوجی کارروائیوں اور ایرانی حکومت کے کریک ڈاؤن سے متعلق نتائج شواہد کے جائزے کی بنیاد پر پیش کیے گئے ہیں جبکہ متعلقہ فریقین کے مؤقف اور بعض واقعات سے متعلق دعوے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *