|

بچے کے نان و نفقے کا تعین والد کی آمدن کے مطابق ہوگا، سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نابالغ بچے کے نان و نفقے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اخراجات مقرر کرتے وقت بچے کی معقول ضروریات، والد کی مالی استطاعت، آمدن اور سماجی حیثیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مسما شاہین نواز کی اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بچے کے والد بنگلا دیش میں ایک ٹیکسٹائل کمپنی میں منیجر ہیں اور اچھی آمدن رکھتے ہیں، اس لیے نابالغ بچے کا ماہانہ نان و نفقہ 40 ہزار روپے مقرر کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں ڈسٹرکٹ جج نے بچے کا ماہانہ نان و نفقہ 30 ہزار روپے مقرر کیا تھا جبکہ رقم میں ہر سال 15 فیصد اضافے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ نے بھی یہی فیصلہ برقرار رکھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ نے والد کی آمدن، مالی وسائل، دیگر کفالت کی ذمہ داریوں اور بچے کی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد نان و نفقہ مقرر کیا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ والد اپنی پہلی شادی سے ہونے والے دو دیگر بچوں کی کفالت کا بھی ذمہ دار ہے۔

تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے محمد عمران باقر بنام مسما زرنین آرزو (PLD 2026 SC 170) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اولاد کی کفالت والد کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، نان و نفقے کی مقدار کا تعین بچے کی حقیقی ضروریات اور والد کی مالی استطاعت کے مطابق کیا جاتا ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ نچلی عدالتوں کی جانب سے مقرر کردہ نان و نفقہ کی رقم میں مداخلت صرف اسی صورت کی جا سکتی ہے جب فیصلہ واضح طور پر من مانی، غیر معقول یا قانون کے خلاف ہو۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں کسی قانونی خامی، شواہد کے غلط جائزے یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو ثابت نہیں کر سکیں، اس لیے آئین کے آرٹیکل 185(3) کے تحت مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔

عدالت نے اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *