ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے نئے انتظامی معاہدے کے قریب پہنچ گئے
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں اس اہم بحری گزرگاہ سے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مشترکہ انتظامی طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔
ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق عباس عراقچی نے کابینہ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تہران اور مسقط کئی ماہ سے اس معاملے پر مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایک ایسے نظام پر اتفاق چاہتے ہیں جو مستقبل میں بحری نقل و حرکت کو منظم بنا سکے۔
یاد رہے کہ تہران نے امریکا اور اسرائیل کے 28 فروری کے حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے بند کر دیا تھا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس حساس بحری راستے پر کسی بھی قسم کی آمد و رفت ایرانی انتظامات اور باہمی مفاہمت کے مطابق ہونی چاہیے۔
دریں اثنا ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال فروری سے پہلے والی پوزیشن پر واپس نہیں جائے گی۔ انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت مستقبل کے انتظامات عمان اور خطے کے دیگر ممالک سے مشاورت کے ذریعے طے کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ شمالی یا جنوبی بحری راستے استعمال نہیں ہوں گے بلکہ دونوں ممالک باہمی اتفاق سے نیا راستہ اختیار کریں گے۔
اسماعیل بقائی نے یہ بھی بتایا کہ برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران سے رابطہ کر کے جنگ میں شریک نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا ہے، جبکہ عمان کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر دوطرفہ نوعیت کے ہیں۔