اسلام کا عالمگیر پیغامِ انسانیت
اسلام نے انسان کو صرف ایک مخلوق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک مکرم تخلیق قرار دیا ہے۔ قرآن مجید اعلان کرتا ہے:
’’بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت و شرف عطا فرمایا۔‘‘(سورہ الاسراء : 70)
یہ شرف کسی خاص قوم، نسل، رنگ، زبان یا ملک کے لیے نہیں، بلکہ ہر انسان کے لئے ہے، کیونکہ ہر انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو اس دنیا میں بھیجنے سے پہلے ایک عظیم اجتماع میں جمع فرمایا اور ان سے پوچھا:
’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے عرض کیا،کیوں نہیں، یقینا آپ ہی ہمارے رب ہیں۔(سورہ الاعراف: 172)
گویا زمین پر آنے سے پہلے پوری انسانیت اپنے رب کی وحدانیت کا اقرار کر چکی تھی۔ اس اعتبار سے تمام انسان ایک ہی عہد، ایک ہی رب اور ایک ہی اصل سے وابستہ ہیں۔ عہد الست ہر بنی آدم کا اپنے خالق اپنے رب سے دنیا میں آنے سے پہلے ہو چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
’’اور میں نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دی۔‘‘ (سورہ الحجر: 29)
یہ’’ نفخہ روح‘‘ انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ انسان کو عقل، شعور، اختیار، اخلاق اور اللہ کی معرفت کی استعداد عطاء کی گئی۔ اسی لئے ہر انسان اپنے اندر عظمتِ انسانی کی ایک امانت لے کر دنیا میں آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حج الوداع کے تاریخی خطبے میں پوری انسانیت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے لوگو!تم سب آدم ؑکی اولاد ہو، اور آدمؑ مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔‘‘
پھر آپ ﷺ نے اعلان فرمایا:
’’کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر، اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔‘‘
قرآن بھی اسی حقیقت کو بیان کرتا ہے:ِ
’’اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی یعنی بیدار اور پرہیز گار ہے۔‘‘ (سورہ الحجرات: 13)
لہٰذا اسلام میں برتری نہ نسل کی ہے، نہ دولت کی، نہ طاقت کی، نہ زبان کی اور نہ قومیت کی۔ اصل شرف اللہ سے تعلق، پاکیزہ کردار، حسن معاملہ ، دیانت، عدل اور حسنِ اخلاق میں ہے۔اسلام نے دشمن کے ساتھ بھی بدزبانی اور تحقیر کی اجازت نہیں دی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو فرعون جیسے ظالم حکمران کے پاس بھیجا تو فرمایا:
’’اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا۔ (سورہ طہ: 44)
جب فرعون جیسے سرکش انسان سے بھی نرم لہجے میں گفتگو کا حکم ہے تو عام انسانوں کے ساتھ احترام، شفقت اور حسنِ سلوک کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
فارسی کے عظیم شاعر سعدی شیرازی نے اسی اسلامی تصورِ انسانیت کو ان الفاظ میں بیان کیا:
بنی آدم اعضای یکدیگرند
کہ در آفرینش ز یک گوہرند
’’بنی آدم ایک دوسرے کے اعضاء ہیں، کیونکہ وہ ایک ہی اصل سے پیدا کئے گئے ہیں۔‘‘
اسلام انسان کو عزت دیتا ہے، مگر اس کے ساتھ ذمہ داری بھی عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیکی اور بدی میں فرق کرنے کی صلاحیت دی، حق و باطل میں انتخاب کا اختیار دیا، اور پھر اس کے اعمال کی بنیاد پر آخرت میں جزا و سزا کا وعدہ فرمایا۔اسی لیے ہر انسان کا احترام واجب ہے۔ اس کی جان، عزت، مال، آزادی اور بنیادی حقوق کی حفاظت اسلامی تعلیمات کا بنیادی اصول ہے۔ نفرت، تعصب، ظلم، نسلی برتری، مذہبی جبر اور انسانی تذلیل اسلام کی روح کے خلاف ہیں۔آج پوری انسانیت کو اسی پیغام کی ضرورت ہے کہ ہم سب ایک ہی رب کے بندے، ایک ہی باپ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد، اور ایک ہی انسانی خاندان کے افراد ہیں۔ اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں تو دنیا سے نفرت کی جگہ محبت، ظلم کی جگہ عدل، جنگ کی جگہ امن، اور تفرقے کی جگہ اخوت جنم لے سکتی ہے۔
آئیے! ہم ہر انسان کا احترام کریں، اس کی عزت کی حفاظت کریں، کسی کو جج نہ کریں۔ حق تعالیٰ عادل حقیقی ہے۔ اس کی خیرخواہی کریں، اور اپنے کردار سے ثابت کریں کہ اسلام واقعی رحمت، محبت، عدل اور انسانیت کا دین ہے۔اور اللہ سب کا خالق اور رب ہے۔ اور وہی تمام مخلوق کا معبود بر حق ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔