مودی حکومت کے خلاف ایک بڑی بغاوت
مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران جس ہندوتوا، انتہا پسندی اور مسلم دشمنی کے ایجنڈے کو پروان چڑھایا، آج اس کا بھیانک، سفاک اور حقیقی چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والے ملک میں اقلیتوں اور مظلوم قومیتوں کے حق ِ خودارادیت کو دبانے کے لیے ظلم و جبر کی ہر حد عبور کی جا رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی جو تاریک تاریخ رقم کی گئی تھی، آج وہی ظلم اور درندگی پلٹ کر خود ہندوستان کے گریبان تک پہنچ چکی ہے۔ آج بھارت کا نوجوان سڑکوں پر ہے، اپنے ہی بنائے گئے نظام کے خلاف سراپا احتجاج ہے اور لاٹھی چارج سے لے کر بندوق کی گولیوں تک کا سامنا کر رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بی جے پی حکومت شدید خطرے میں گھر چکی ہے اور عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مودی حکومت کے خلاف ایک بہت بڑی بغاوت کا نقطہ آغاز ہے۔ مقبوضہ کشمیر بھارتی حکومت کے لیے ایک ایسا محاذ ہے جہاں اس کی تمام تر فوجی طاقت، جدید ترین ہتھیار اور ظلم کے ہتھکنڈے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں مسلسل ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مقبوضہ وادی کے ضلع اننت ناگ میں ایک پولیس اہلکار کے قتل کے بعد قابض بھارتی فورسز نے جس درندگی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ جنگی جرائم کی واضح اور کھلی تشریح ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں، بشمول مؤقر بھارتی جریدے ’انٹرنیشنل بزنس ٹائمز‘ اور ترک نیوز ایجنسی ’ٹی آر ٹی‘ کی مصدقہ رپورٹوں کے مطابق، اس ایک واقعے کو جواز بنا کر بھارتی فورسز نے پوری وادی میں ایک وحشیانہ کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے اور بڑے پیمانے پر چھاپے مار کر تقریباً 3500 بے گناہ کشمیریوں کو گرفتار کر کے عقوبت خانوں میں ڈال دیا ہے۔ مسلمان دشمنی کے ایجنڈے پر سختی سے کاربند مودی سرکار کی یہ بوکھلاہٹ اور حواس باختگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ محض ہزاروں گرفتاریوں پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ’کشمیر میڈیا سروس‘ کے مطابق قابض فورسز نے انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو رہائشی مکانات کو بارودی مواد سے اُڑا دیا ہے۔ یہ ظالمانہ عمل سیدھی سیدھی ’اجتماعی سزا کے زمرے میں آتا ہے۔ اس ریاستی غنڈہ گردی اور ننگی جارحیت پر خود بھارت نواز سمجھے جانے والے کشمیری رہنما بھی چیخ اٹھے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انتہائی واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں اور ان کے گھروں کی مسماری اجتماعی سزا ہے جس کی کسی بھی مہذب معاشرے یا جمہوریت میں کوئی گنجائش یا جگہ نہیں۔ اسی طرح ایک اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی کشمیریوں کی گرفتاریوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے پہل گام حملے کے بعد پیدا ہونے والی گمبھیر صورتحال سے تشبیہ دی ہے۔ انسانی حقوق کے موقر بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں، جبر اور تشدد میں نمایاں اور تشویشناک حد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں یہ بڑھتے مظالم اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں قابض فوج تعینات کرنے کے باوجود مودی حکومت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ جو ریاست اپنے زیرِ تسلط علاقوں میں ریاستی دہشت گردی کو ادارہ جاتی شکل دے دیتی ہے، وہ بالآخر اپنے شہریوں پر بھی اسی جبر کا بے دریغ استعمال کرتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو کچلنے کے لیے تیار کی گئی ریاستی مشینری اب اپنا رُخ موڑ چکی ہے، اور اب بھارتی حکومت کے مظالم ہندوستان کے گلی محلوں میں پہنچ چکے ہیں اور ان کے نوجوان سڑکوں پر ہیں جس کے نتیجے میں بی جے پی حکومت خطرے میں ہے، یہ انڈیا میں بڑی بغاوت ہے۔ بھارت کا وہ باشعور نوجوان، جو کبھی مودی کے ’شائننگ انڈیا‘، ’میک ان انڈیا‘ اور معاشی ترقی کے دلفریب نعروں کے فریب میں مبتلا تھا، آج اپنے بنیادی حقوق، شفاف نظامِ تعلیم اور روزگار کے لیے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہے اور اسے اسی بدترین ریاستی جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مودی حکومت نے جمہوری اقدار کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے اور حسب ِ روایت اس پرامن احتجاج کو طاقت کے زور سے کچلنے کی کوشش کی۔ دو ہفتوں کی مسلسل بھوک ہڑتال کے بعد، جب سونم وانگچک کی حالت غیر ہونے لگی، تو ریاست نے ان کے مطالبات سننے کے بجائے انہیں زبردستی اسپتال منتقل کر دیا۔ اس آمرانہ اور غیر انسانی واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور لاکھوں کی تعداد میں بھارتی طلبہ اپنے تعلیمی اداروں اور گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔ سیاسی و سماجی کارکنان کے ایک بے قابو اور بپھرے ہوئے ہجوم نے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور مودی حکومت کے استعفے کے لیے بھارتی پارلیمنٹ کا رُخ کیا۔ مودی حکومت نے اس پرامن طلبہ مارچ کو روکنے کے لیے انہی ظالمانہ اور وحشیانہ ہتھکنڈوں کا استعمال کیا جو وہ مقبوضہ کشمیر میں استعمال کرتی ہے۔ پولیس نے مظاہرین پر بدترین اور انسانیت سوز لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کی شدید اور اندھا دھند شیلنگ کی، اور ریاستی درندگی کی حد تو یہ ہے کہ اپنے ہی ملک کے نہتے نوجوانوں اور طلبہ کے سیلاب کو روکنے کے لیے بھارتی فورسز نے ان پر سیدھی بندوقیں تان لیں۔ لیکن وہ بیدار ہونے والے عوام کے اس طوفان کے آگے مکمل طور پر ناکام رہے۔ مودی حکومت نے اب تک اپنا آمرانہ اقتدار ہندوتوا کی لہر، پاکستان دشمنی، اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر قائم رکھا ہوا تھا۔ لیکن اب جب بات کروڑوں نوجوانوں کے تاریک مستقبل، روزگار کے سنگین بحران، اور تعلیمی نظام کی مکمل تباہی پر آ گئی ہے، تو مذہب کا کھوکھلا کارڈ مزید کام نہیں آ رہا۔ یہ محض ایک امتحان کے پرچے کے لیک ہونے کا محدود مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس گہرے، وسیع تر اور دیرینہ عدم اطمینان کا لاوا ہے جو پچھلے کئی سال سے بھارتی نوجوانوں کے سینوں میں پک رہا تھا۔ بے روزگاری کی تاریخ کی بلند ترین شرح، ہوشربا مہنگائی، بدترین معاشی عدم مساوات، اقلیتوں پر منظم مظالم، اور اختلافِ رائے کو غداری قرار دے کر صحافیوں اور طلبہ کو جیلوں میں ڈالنے کی فاشسٹ پالیسیوں نے بھارتی سماج کو ایک خطرناک بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر کے خون آلود، بارود سے لرزتے مناظر اور نئی دہلی کی سڑکوں پر اپنے ہی ملک کے طلبہ پر تانی گئی بندوقیں دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یہ فاشزم کی وہ آخری، اندھی اور خطرناک ترین شکل ہے جہاں ریاست مکمل طور پر اپنے ہوش و حواس کھو کر اپنے ہی عوام کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھنے لگتی ہے۔ بھارتی حکومت نے کشمیر کی وادیوں میں ظلم، جبر اور درندگی کے جو بیج بوئے تھے، آج ان کی کڑوی اور زہریلی فصل وہ پورے بھارت کے طول و عرض میں کاٹ رہی ہے۔ اب صورتحال واضح طور پر مودی حکومت کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ ایک طرف کشمیریوں کی ناقابل ِ تسخیر تحریک ِ آزادی ہے جو لاکھ مظالم کے باوجود زندہ و جاوید ہے، اور دوسری طرف بھارت کے اندرونی گلی کوچوں میں اٹھنے والی وہ عظیم اور فیصلہ کن بغاوت ہے جس نے بی جے پی حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ لگتا ہے نریندر مودی کا فاشسٹ راج، جو صرف نفرت، تقسیم اور ریاستی جبر کی بنیادوں پر کھڑا تھا، اب اپنے ہی بچھائے ہوئے جال اور اپنے ہی عوام کے غیظ و غضب کی شدید لپیٹ میں آ کر تیزی سے اپنے عبرتناک انجام کی جانب بڑھ رہا ہے۔