پاکستان کی اہم سائنسی پیشرفت: پہلی بار جیوتھرمل شوراب میں لیتھیم دریافت
اسلام آباد: پاکستان نے ایک اہم سائنسی پیش رفت کرتے ہوئے زمینی شوراب میں لیتھیم کی موجودگی کی تصدیق کردی ہے، جس کے بعد ملک میں اس قیمتی معدنی عنصر کے ممکنہ وسائل کی تلاش کے لیے نئی راہیں کھلنے کی توقع کی جارہی ہے۔
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) نے پاکستان میں پہلی مرتبہ فارمیشن واٹر یا زیر زمین شوراب میں لیتھیم کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
اس حوالے سے ابتدائی معلومات کے مطابق دریافت ہونے والے لیتھیم کی مقدار کا موازنہ دنیا کے معروف لیتھیم رکھنے والے جیوتھرمل شورابوں سے کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت او جی ڈی سی کے پائلٹ جیوتھرمل پروگرام کے دوران سامنے آئی ہے۔
پروگرام کے تحت کامیابی سے آزمائے گئے بلند درجہ حرارت کے ایک جیوتھرمل کنویں سے فارمیشن واٹر حاصل کیا گیا، جس کے بعد جدید جیوکیمیائی طریقوں کے ذریعے اس کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ نتائج میں شوراب کے اندر لیتھیم کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
او جی ڈی سی کے اعلیٰ حکام کے مطابق پاکستان میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی دریافت ہے۔ اس پیش رفت کے بعد پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جہاں جیوتھرمل شوراب کو لیتھیم کے ممکنہ ذریعے کے طور پر تلاش اور جانچنے کا عمل جاری ہے۔
لیتھیم کو موجودہ دور کی اہم ترین معدنیات میں شمار کیا جاتا ہے اور دنیا بھر میں صاف توانائی کی جانب تیزی سے منتقلی کے باعث اس کی طلب اور اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بالخصوص برقی گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بیٹریوں، بڑے پیمانے پر بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام اور متعدد جدید ٹیکنالوجیز میں بنیادی جزو کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان میں زمینی شوراب سے لیتھیم کی موجودگی کی تصدیق سائنسی اعتبار سے اہم پیش رفت ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ تجارتی منصوبے سے قبل مزید تحقیق اور تکنیکی جائزے کی ضرورت ہوگی۔
سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید مطالعات سے یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ دستیاب لیتھیم کو کس مقدار اور کس حد تک معاشی طور پر قابل عمل طریقے سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اگر مستقبل کی تحقیق اور جائزوں میں یہ وسائل تجارتی پیمانے پر قابل استعمال ثابت ہوتے ہیں تو یہ دریافت پاکستان کے معدنی وسائل اور توانائی سے متعلق شعبوں کے لیے نئی اقتصادی اور تکنیکی اہمیت اختیار کرسکتی ہے۔