مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل 110 ڈالر فی بیرل کے قریب
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، بعض اقسام کے خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقا سے فراہم کیے جانے والے خام تیل کے فزیکل کارگوز کی قیمتیں رواں ہفتے بڑھ کر گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کرگئی جبکہ نارتھ سی فورٹیز خام تیل کی قیمت 108.77 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں حالیہ تیزی کی بڑی وجوہات میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے ساتھ ایران اور یوکرین سے منسلک تنازعات کے باعث عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات شامل ہیں۔
رسد سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے نتیجے میں خریدار فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع سے خام تیل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ بڑھا ہے۔
عالمی سطح پر خام تیل کے اہم بینچ مارک ڈیٹڈ برینٹ نے بھی نمایاں چھلانگ لگائی۔ LSEG کے اعدادوشمار کے مطابق جمعرات کو ڈیٹڈ برینٹ کی قیمت 105.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ یہ مئی کے اختتام کے بعد بلند ترین سطح بتائی گئی ہے، جبکہ جون کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ اس کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر گئی۔
تیل کے بروکر تاماس وارگا کے مطابق عالمی مارکیٹ کی توجہ ایک مرتبہ پھر سپلائی سے متعلق خدشات پر مرکوز ہوگئی ہے۔
دوسری جانب قازقستان سے تیل کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات نے بھی عالمی مارکیٹ میں تشویش بڑھائی ہے۔ قازقستان نے بتایا کہ بحیرہ اسود میں سی پی سی بلینڈ خام تیل کے ایک اہم برآمدی ٹرمینل کو مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد بند کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ملک کو تیل کی پیداوار بھی کم کرنا پڑی۔
رپورٹس کے مطابق قازقستان میں خام تیل کی پیداوار میں بڑی کمی آئی ہے اور یہ تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ تک محدود ہوگئی۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور دیگر پیداواری علاقوں میں رسد کی رکاوٹیں برقرار رہنے کی صورت میں عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔