پاسداران انقلاب کی خطے کے شہریوں کو امریکی مراکز سے دُور رہنے کی ہدایت
تہران: ایرانی پاسداران انقلاب نے خطے کے مختلف ممالک میں رہنے والے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے پیش نظر امریکی فوج سے منسلک مراکز، تنصیبات اور مبینہ خفیہ رہائش گاہوں سے کم از کم 500 میٹر کا فاصلہ برقرار رکھیں۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں بالخصوص ایسی عمارتوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جن کے بارے میں ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوجی اہلکار انہیں خفیہ رہائش گاہوں یا دیگر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے بعض افسران اور اہلکار اپنے باقاعدہ فوجی اڈوں سے نکل کر شہری آبادیوں میں موجود عمارتوں میں منتقل ہوگئے ہیں۔ پاسداران انقلاب کے مطابق ان مقامات کو مبینہ طور پر فوجی سرگرمیوں کی ہدایات دینے اور کارروائیوں کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
ایرانی فورس نے خطے کے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے آس پاس کوئی ایسی عمارت یا مقام موجود ہے جسے امریکی فوجی اہلکار استعمال کررہے ہوں تو وہ اپنی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر وہاں سے کم از کم 500 میٹر دور ہوجائیں۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے یہ انتباہ خطے میں جاری کشیدگی اور ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے دوران سامنے آیا ہے۔
اپنے بیان میں پاسداران انقلاب نے امریکا پر ایران کے اندر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔ ایرانی فورس کے مطابق امریکی حملوں میں مختلف نوعیت کے شہری مقامات اور سہولیات متاثر ہوئی ہیں۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ نشانہ بنائے جانے والے شہری بنیادی ڈھانچے میں پل، ماہی گیری سے متعلق بندرگاہیں، کشتیاں، گاڑیاں اور ریلوے نظام بھی شامل ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے امریکی فوجی اہلکاروں کی شہری علاقوں میں مبینہ منتقلی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے سے متعلق یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں فوجی صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور مختلف فریق ایک دوسرے پر کارروائیوں اور حملوں کے الزامات عائد کررہے ہیں۔