براڈ پیک پر
|

براڈ پیک پر لاپتا پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی

اسلام آباد: دنیا کی خطرناک بلند چوٹیوں میں شمار ہونے والی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں لاپتا ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش تلاش کرلی گئی۔ لاش کی تلاش اور اسے بیس کیمپ تک منتقل کرنے کے لیے مقامی رضاکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی گھنٹوں تک کوششیں کیں۔

الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق سہیل سخی کی لاش شگر کے علاقے تسر سے تعلق رکھنے والے مقامی رضاکاروں نے تلاش کی۔ امدادی کارروائی میں محمد ندیم، محمد بشیر اور ابوذر سمیت دیگر مقامی افراد نے حصہ لیا۔

الپائن کلب کے مطابق لاش کی تلاش کے بعد رضاکاروں نے اسے کیمپ ون سے بیس کیمپ منتقل کردیا۔ رضاکاروں نے زَمان اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ دشوار گزار پہاڑی راستوں اور سخت موسمی حالات کے باوجود لاش کو کیمپ ون سے بیس کیمپ پہنچایا۔

الپائن کلب آف پاکستان کا کہنا ہے کہ سہیل سخی کی لاش اس وقت بیس کیمپ پر موجود ہے جبکہ موسم نے اجازت دی تو لاش کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے آج ہی اسکردو منتقل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

حکام کے مطابق براڈ پیک کے علاقے میں موسم اور جغرافیائی حالات امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ ہیں، اس لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقلی کا فیصلہ موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ تقریباً 15 روز قبل براڈ پیک پر اچانک برفانی تودہ گرنے کے باعث متعدد کوہ پیما لاپتا ہوگئے تھے۔ حادثے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 10 کوہ پیماؤں کے لاپتا ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔

حادثے کے بعد لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے امدادی اور سرچ آپریشن شروع کیا گیا، تاہم انتہائی بلند مقام، شدید سردی، برفانی تودوں کے خطرے اور خراب موسمی حالات کے باعث ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا رہا۔

الپائن کلب کے مطابق حادثے کے بعد اب تک 7 کوہ پیماؤں کی لاشیں مل چکی ہیں، جن میں 5 نیپالی کوہ پیما بھی شامل ہیں۔ سہیل سخی کی لاش ملنے کے بعد حادثے میں لاپتا پاکستانی کوہ پیما کے خاندان کو بھی اپنے پیارے کی تدفین کے حوالے سے پیش رفت کا موقع مل گیا ہے۔

سہیل سخی کی موت کی خبر سامنے آنے پر پاکستانی کوہ پیمائی برادری میں بھی افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ الپائن کلب آف پاکستان نے سہیل سخی کے اہل خانہ اور کوہ پیمائی سے وابستہ افراد سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

الپائن کلب نے مقامی رضاکاروں کی جانب سے مشکل حالات میں لاش تلاش کرنے اور اسے بیس کیمپ تک منتقل کرنے کی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔

براڈ پیک پر پیش آنے والا حالیہ حادثہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر کوہ پیمائی کس قدر خطرناک اور غیر یقینی مہم ہے، جہاں اچانک موسم کی تبدیلی، برفانی تودے اور دشوار گزار راستے کوہ پیماؤں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *