کشمیریوں پر کریک ڈائون سے پاکستان کا موقف کمزور ہوگا، تنظیم اسلامی
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)5 اگست مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کا ایک اور سیاہ دن ہے۔ حکومتِ پاکستان نے آزاد کشمیر کے عوام پر کریک ڈاون جاری رکھا تو پاکستان کا کشمیر پر اصولی موقف کمزور ہوجائے گا۔ ملک کی مختلف اکائیوں کو اخوت کے رشتے میں جوڑنا اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کے نفاذ میں مضمر ہے۔ ان خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ایک خصوصی پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سات (7) برس قبل 5اگست 2019 کو بھارت نے اپنے آئین کی دفعہ 370اور 35-Aکو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کر دیا تھا جو سلامتی کونسل کی منظور کردہ استصواب رائے کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ پھر اس خوف سے کہ کشمیری مسلمان اپنے ردعمل کا اظہار کریں گے مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا اور کشمیریوں پر ہونے والا ظلم و تشدد بدترین صورت اختیار کرگیا۔ مقبوضہ کشمیر کی صفِ اول کی سیاسی قیادت پر جھوٹے مقدامات قائم کرکے انہیں پابند سلاسل کر دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے ہر وعدہ سے منحرف ہونے کی بھارتی داستان صاف ظاہر کرتی ہے کہ وہ کسی صورت مقبوضہ کشمیر پر اپنے ناجائز تسلط کو ختم کرنے کو تیار نہیں بلکہ اِسے دوام دینے کے لیے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کرنے پر تلا ہوا ہے۔ پھر یہ کہ بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بھی کھل کر سامنے آ چکا ہے اور بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کا اسرائیلی ماڈل اپنا رہا ہے۔ امیر تنظیم نے کہا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے علمبردار کہلانے والے اکثرمغربی ممالک اور بین الاقوامی ادارے بھارت کے 5اگست کے سفاکانہ اقدامات کے حوالے سے خاموش رہ کر ظلم میں اس کے شراکت دار بن چکے ہیں اور بھارت کے اس غیر انسانی اور بین الاقوامی قوانین کے سراسرخلاف طرزِعمل کو رد کرناتو دور کی بات ہے زبان سے بھی اس کی مذمت کرنے پر تیارنہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ حکومتِ پاکستان کی ناعاقبت اندیش پالیسیوں نے آزاد کشمیر کے عوام میں بھی سخت اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔ الیکشن کے نام پر دھونس اور دھاندلی کا بازار گرم کیا گیا اور کشمیری عوام پر طاقت کا بے جا استعمال جاری ہے۔ بعض بین الاقوامی تجزیہ کار تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اپنے حصہ کے کشمیر پر ظلم ڈھانے والا پاکستان، بھارتی مظالم کے خلاف کس سے بات کر رہا ہے۔ بہرحال، اگر حکومتِ پاکستان نے یہ طرزِعمل جاری رکھا تو کشمیری عوام میں ریاست مخالف جذبات پیدا ہوں گے، جن کا نہ صرف ہمارا ازلی دشمن بھارت فائدہ اٹھائے گا بلکہ پاکستان کا کشمیر پر اصولی موقف بھی انتہائی کمزور ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ جب تک بھارت 5اگست 2019 کے اقدام کو واپس نہیں لیتا بھارت کے ساتھ کسی نوع کے تعلقات قائم کرنا اتنا ہی بڑا جرم ہوگا جتنا ابراہم اکارڈز کی آڑ میں ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے۔