نیتن یاہو کا ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو ماننے سے انکار
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج حماس کی عسکری صلاحیتوں کے مکمل خاتمے تک غزہ سے انخلا نہیں کرے گی۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیتن یاہو نے غزہ کے لیے قائم کیے گئے امن بورڈ کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی دستاویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے غزہ میں حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا بنیادی شرط ہے اور محض ایسی صورتحال کو قبول نہیں کیا جائے گا جس میں حماس بظاہر کمزور دکھائی دے لیکن اس کی عسکری صلاحیتیں برقرار رہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل حماس کی حقیقی عسکری طاقت کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی فوج کی غزہ سے کسی بھی مرحلے پر واپسی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حماس کو مؤثر اور مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کے حوالے سے قابلِ اطمینان پیش رفت نہ ہوجائے۔
نیتن یاہو کے مطابق اس معاملے پر امریکا کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں ممالک کے حکام مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے پیش کی جانے والی بعض تجاویز اسرائیل کے لیے قابل قبول ہیں، تاہم کچھ نکات ایسے بھی ہیں جنہیں اسرائیلی حکومت تسلیم نہیں کرسکتی۔
اسرائیلی وزیراعظم کے اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور آئندہ کے انتظام سے متعلق امریکی اور اسرائیلی حکمت عملی میں بعض اہم معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ بالخصوص اسرائیلی فوج کے انخلا اور حماس کی عسکری صلاحیتوں کے خاتمے کا معاملہ امن منصوبے پر پیش رفت میں ایک اہم رکاوٹ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے 15 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس کا مقصد خطے کو مسلسل جنگ اور تباہی کی صورتحال سے نکال کر ایک نئے مرحلے کی طرف لے جانا قرار دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق منصوبے پر عمل درآمد سے غزہ میں جنگ بندی کے بعد معاشی بحالی اور ترقی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے منصوبے کے بعض نکات کو ناقابل قبول قرار دیے جانے کے بعد غزہ کے مستقبل، اسرائیلی فوج کے انخلا اور حماس کے عسکری ڈھانچے سے متعلق معاملات پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان مزید مذاکرات کی ضرورت سامنے آئی ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ سے متعلق کسی بھی انتظام میں اپنی سلامتی کو بنیادی اہمیت دیتا ہے اور حماس کی عسکری صلاحیتوں کے خاتمے کے بغیر اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا قابل قبول نہیں ہوگا۔