دشمن ہمیں تباہ کرنا چاہتا تھا، مگر اس کی سازشیں ناکام بنادیں: ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ مخالف قوتوں کو یقین تھا کہ مسلسل دباؤ اور مختلف حربوں کے ذریعے ایران کو خشک سالی، لوٹ مار اور معاشرتی انتشار کی جانب دھکیلا جاسکتا ہے، تاہم ان کی تمام کوششوں کو ایک کے بعد ایک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
یونیورسٹی آف تہران میں پیر کے روز ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف اختیار کیے گئے طریقوں میں مصنوعی ذہانت سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار، جاسوسوں کے نیٹ ورک، کرائے کے ایجنٹ اور ان کے مقامی معاونین شامل تھے، لیکن ان ذرائع کے ذریعے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ بیرونی دباؤ اور مختلف مشکلات کے باوجود ایران نے اپنی داخلی صورتحال کو سنبھالے رکھا اور مخالفین کی جانب سے پیدا کیے گئے چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ ان کے مطابق ملک کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد اور مضبوط عزم بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
مسعود پزیشکیان نے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ایران کو جارحیت، ناانصافی اور طاقت کے ناجائز استعمال کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔
ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں سابق رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت اور حکمت عملی کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں موجودہ استحکام اور سلامتی میں ان کی دور اندیشی اور رہنمائی کا اہم کردار رہا ہے۔
مسعود پزیشکیان کے مطابق بیرونی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور مختلف بحرانوں کے باوجود سابق رہبرِ اعلیٰ کی سوچ اور حکمت عملی نے ایران کو مسلسل آگے بڑھنے کی سمت دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی رہنمائی ملک کو درپیش مشکلات کے دوران ایک رہنما اصول کے طور پر کام کرتی رہی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ سابق رہبرِ اعلیٰ کی انقلابی سوچ نے متعدد خطرات کو مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد دی اور ایران کو مخالفین کی جانب سے پیدا کیے گئے بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی اختیار کرنے کا موقع فراہم کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران کو مستقبل میں بھی بیرونی دباؤ اور جارحیت کے مقابلے کے لیے اپنی داخلی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہوگا اور قومی سلامتی و استحکام کے تحفظ کو ترجیح دینی ہوگی۔