آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قراردینے پر ٹرمپ کی غلط فہمی جلد دورکردیں گے: ایران
تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے ’’نیا امریکی علاقہ‘‘ قرار دیا، جس پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ٹرمپ کے بیان کو وہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی صدر کی غلط فہمی جلد دور کردی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے متعلق متنازع دعویٰ کرتے ہوئے اس اہم آبی گزرگاہ کا نقشہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری کردیا، جس پر درج کیپشن میں آبنائے ہرمز کو ’’نیا امریکی علاقہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں آبنائے ہرمز کے ساتھ ایران کے بعض حصوں، خلیج اور خلیج عمان کو بھی نقشے میں دکھایا گیا ہے۔ امریکی صدر کی اس پوسٹ کو گزشتہ ہفتے دیے گئے ان کے اس بیان کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے ایران کے ’’ہتھیار ڈالنے‘‘ کی صورت میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کی دھمکی دی تھی۔
ٹرمپ کی تازہ پوسٹ سامنے آنے کے بعد ایران کی جانب سے فوری اور سخت ردعمل سامنے آیا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے امریکی صدر کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے آبنائے ہرمز سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف کو ’’وہم‘‘ قرار دیا۔
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی غلط فہمی جلد دور ہوجائے گی، بصورت دیگر ایران خود اس ’’وہم میں مبتلا شخص کے وہم‘‘ کو درست کرے گا۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اہم مرکز بن چکی ہے۔ ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنے حقوق اور اثر و رسوخ کو اہم قرار دیتا ہے، جبکہ امریکا خطے میں آزادانہ بحری آمدورفت کو اپنی ترجیح قرار دیتا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج اور خلیج عمان کو ملانے والی ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثر پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے والی تصویر شیئر کیے جانے اور ایران کی جانب سے اسے مسترد کیے جانے سے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید شدت کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔