2035
|

بھارت کا 2035 تک دو سو جنگی بحری جہازوں کا منصوبہ، چین اور پاکستان کی بحری صلاحیتیں اہم محرک قرار

نئی دہلی: بھارت نے اپنی بحری طاقت میں بڑے پیمانے پر اضافے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت دو ہزار پینتیس تک بھارتی بحریہ میں جنگی جہازوں کی تعداد بڑھا کر تقریباً دو سو تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی شپ یارڈز تیزی سے نئے جنگی جہاز تیار کر رہے ہیں اور تقریباً ہر چھ ہفتے یا اس کے بعد ایک نیا بحری جہاز بھارتی بحریہ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکام اس رفتار کو بحری خود انحصاری اور خطے میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک مقابلے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین کی دنیا کی سب سے بڑی بحری طاقت بننے کی کوششیں اور پاکستان کی جانب سے جدید چینی ساختہ آبدوزوں کی شمولیت نے بھارت کے دفاعی منصوبہ سازوں کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر بحرِ ہند میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے بھارت اپنی بحری صلاحیتوں میں اضافے پر توجہ دے رہا ہے۔

بھارتی بحریہ میں حالیہ عرصے کے دوران شامل کیے جانے والے جنگی جہازوں میں اسٹیلتھ فریگیٹ آئی این ایس مہندرگیری اور آبدوز شکن صلاحیت رکھنے والا جہاز مالوان شامل ہیں، یہ دونوں جہاز بھارت کی مُقامی سطح پر جنگی بحری سازوسامان تیار کرنے کی کوششوں کی علامت ہیں۔

آئی این ایس مہندرگیری کو بھارتی بحریہ کے وار شپ ڈیزائن بیورو نے ڈیزائن کیا ہے جبکہ اسے مزاگون ڈاک شپ بلڈرز نے تیار کیا۔ اس جہاز میں تقریباً پچھتر فیصد مقامی مواد استعمال کیا گیا ہے اور یہ نیل گیری کلاس کا چھٹا جنگی جہاز ہے۔ بھارتی بحریہ مزید جدید جنگی جہازوں کی تیاری پر بھی کام کر رہی ہے۔

اس وقت بھارتی بحریہ کے پاس تقریباً ایک سو پچاس بحری جہاز موجود ہیں، جن میں فریگیٹس، ڈسٹرائرز اور آبدوزیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً پچاس مزید جہاز زیر تعمیر ہیں۔

سابق ریئر ایڈمرل سنجے مسرا نے کہا ہے کہ اگر حالات سازگار رہے تو بھارت دو سو جنگی جہازوں کے ہدف سے بھی آگے بڑھ سکتا ہے،بھارت کو مستقل بنیادوں پر تیار بحری بیڑے کی ضرورت ہے، جس کے لیے زیادہ تعداد میں جنگی اور معاون جہاز درکار ہوں گے۔

بھارتی تھنک ٹینک انڈک ریسرچرز فورم کے اسٹریٹجک امور کے ڈائریکٹر سری نواسن بالاکرشنن کے مطابق دو سو جہازوں کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے مقامی صنعت کو پیداواری صلاحیت، سپلائی چین اور اہم دفاعی ٹیکنالوجی کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو جدید بحری نظام، پروپلشن ٹیکنالوجی، سینسرز اور ہتھیاروں کے انضمام کے لیے فرانس، روس، اسرائیل اور امریکا جیسے ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھنا پڑ سکتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *