پمز سانحہ اسپتال
| |

پمز سانحہ: اسپتال میں غیر تسلی بخش انتظامات  اور مجرمانہ غفلت کا انکشاف

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز میں فائر سیفٹی کے غیر تسلی بخش انتظامات اور انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فائر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ نوٹس میں اسپتال میں حفاظتی اقدامات کو ناکافی قرار دے دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پمز اسپتال کو فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر 2018 سے مسلسل تنبیہی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ بارہا ہدایات کے باوجود اسپتال انتظامیہ نے آگ سے بچاؤ کے لیے ضروری آلات کی تنصیب اور حفاظتی پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں دلچسپی نہیں لی ہے۔

فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اسپتال میں فائر پریوینٹیو اور لائف سیفٹی آلات تاحال نامکمل ہیں۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی کی صورت میں فوری انخلا کے منصوبوں اور حفاظتی سرٹیفکیٹس کا حصول بھی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل دکھائی نہیں دیتا جو ایک بڑی غفلت ہے۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن نے اسپتال کو ہدایت کی ہے کہ وہ فائر سیفٹی سسٹم کی موثر دیکھ بھال کے لیے ماہر عملہ تعینات کرے۔ اسپتال میں 24 گھنٹے فعال ایمرجنسی نظام کا ہونا ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں مریضوں اور عملے کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی بڑے سانحے سے بچا جا سکے۔

انتظامیہ کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عملے کے لیے فائر سیفٹی اور بلڈنگ ایویکیوشن کی ٹریننگ کا اہتمام کرے۔ اسپتال میں باقاعدگی سے ایمرجنسی مشقیں اور ڈرلز کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ عملہ کسی بھی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور تربیت یافتہ ہو سکے۔

بتایا گیا ہے کہ 2024ء ایک نوٹس میں پمز انتظامیہ کو 3 ماہ کی حتمی مہلت بھی دی گئی۔ اس عرصے میں تمام تر قانونی تقاضے پورے کرنا لازم ہوں گے۔ اگر مقررہ وقت میں ہدایات پر عمل نہ ہوا تو اسپتال انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *