اے آئی کی مدد سے یمنی جنگجوؤں کا میزائل سافٹ ویئر تیار کرنے کا انکشاف
یمن: امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی یمن میں موجود ایک مسلح گروپ نے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کلاؤڈ کی مدد سے گائیڈڈ راکٹ اور بیلسٹک میزائلوں سے متعلق سافٹ ویئر تیار کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی نے اپنی 10 ستمبر کو جاری کی گئی تازہ تھریٹ انٹیلی جنس رپورٹ میں اس واقعے کو مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کی خطرناک مثال قرار دیا ہے۔
اینتھروپک کے مطابق شمالی یمن میں موجود مذکورہ گروپ نے بیک وقت ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق 3 پروگرام چلائے، جن میں ایک گائیڈڈ راکٹ، ایک کثیر مرحلہ بیلسٹک میزائل اور مختلف اقسام کے میزائلوں پر مشتمل ایک پروگرام شامل تھا۔
رپورٹ کے مطابق گروپ نے کلاؤڈ کو انسانی سافٹ ویئر انجینئرز کے متبادل کے طور پر استعمال کیا اور ہتھیاروں کے رہنمائی، نیویگیشن اور کنٹرول سے متعلق سافٹ ویئر کی تیاری میں مصنوعی ذہانت سے مدد حاصل کی۔ یہ وہ نظام ہوتے ہیں جو دورانِ پرواز کسی فضائی یا میزائل نظام کو مستحکم رکھنے اور اس کی سمت برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
اینتھروپک کا کہنا ہے کہ گروپ نے کلاؤڈ کی مدد سے ایک دستیاب خودکار پرواز کے نظام کو فون درجے کے فلائٹ کمپیوٹر سے مربوط کرنے، کنٹرول اور پوزیشن کا اندازہ لگانے والے سافٹ ویئر تیار کرنے، سافٹ ویئر کی ترتیبات بہتر بنانے، فرم ویئر تیار کرنے اور پرواز کی مصنوعی مشقیں کرنے جیسے کام انجام دیے۔
رپورٹ کے مطابق گروپ نے بیک وقت مصنوعی ذہانت کے متعدد نمونے استعمال کیے۔ ایک کلاؤڈ نمونے سے کوڈ لکھوایا جاتا، دوسرے سے تحقیق کروائی جاتی جبکہ تیسرے سے پہلے تیار کیے گئے کوڈ کا جائزہ لیا جاتا تھا۔ اس طریقہ کار نے مصنوعی ذہانت کو ایک چھوٹی انجینئرنگ ٹیم کی طرح استعمال کرنے کی سہولت فراہم کی۔
اینتھروپک کے مطابق اس گروپ نے گائیڈڈ راکٹ کا عملی تجربہ بھی کیا، تجربہ بظاہر ناکام رہا، تجربے کی ناکامی کے چند گھنٹوں کے اندر گروپ دوبارہ کلاؤڈ پر واپس آیا تاکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ناکامی کی وجہ جاننے کی کوشش کی جاسکے۔
دوسری جانب اینتھروپک نے واضح کیا ہے کہ اسے اس بات کا ثبوت نہیں ملا کہ گروپ کوئی فعال بیلسٹک میزائل میدان میں تعینات کرنے میں کامیاب ہوا، اس کی معلومات محدود تھیں اور اسے پورے ہتھیاروں کے پروگرام کے ہر حصے تک رسائی حاصل نہیں تھی۔
رپورٹ کے مطابق بیلسٹک میزائل پروگرام میں طویل فاصلے کے میزائلوں کی پرواز کی کمپیوٹرائزڈ مشقیں بھی شامل تھیں جبکہ ایک منصوبے میں ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل کی قسم بھی زیرِ غور تھی۔
اینتھروپک نے اعتراف کیا کہ اس کے حفاظتی نظام نے گروپ کی بہت سی درخواستیں روکیں، تاہم تمام درخواستوں کو روکنا ممکن نہیں ہوسکا۔ گروپ نے اپنی اصل نیت چھپانے، ہتھیاروں سے متعلق کام کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے اور متعدد الگ الگ سیشنز استعمال کرنے جیسے طریقے اختیار کیے، جس کے باعث کسی ایک سیشن میں پورے منصوبے کی واضح تصویر سامنے نہیں آتی تھی۔
اینتھروپک نے متعلقہ اکاؤنٹس پر پابندی عائد کردی اور خطرے سے متعلق معلومات سرکاری، نجی اور دیگر ٹیکنالوجی اداروں کے ساتھ شیئر کردیں، گروپ نے اس دوران ایسا آف لائن مصنوعی مشقی نظام بھی تیار کرلیا تھا جو کلاؤڈ یا میٹلَیب جیسے انجینئرنگ سافٹ ویئر پر منحصر نہیں تھا۔
اینتھروپک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن کا یہ واقعہ کسی ایک گروپ تک محدود خطرہ نہیں، بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے روایتی ہتھیاروں کی تیاری کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ کمپنی نے چین، روس اور یمن سے متعلق مجموعی طور پر 6 ایسے واقعات کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں جن میں کلاؤڈ کو ہتھیاروں، ڈرونز، میزائلوں یا متعلقہ سافٹ ویئر کے لیے استعمال کیا گیا۔
کمپنی کے مطابق جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اب ایسے فوجی اور انٹیلی جنس کام انجام دینے کے قابل ہورہے ہیں جو ماضی میں محدود تعداد میں انتہائی تربیت یافتہ ماہرین ہی انجام دے سکتے تھے، اسی خطرے کے پیش نظر اس نے ہتھیاروں کی تیاری اور متعلقہ سرگرمیوں کی نشاندہی اور روک تھام کے لیے مزید حفاظتی نظام متعارف کرائے ہیں۔