امریکا نے ایران پر حملوں کے لیے اسرائیلی فضائی اڈے استعمال کیے: اسرائیلی وزیر دفاع
تل ابیب: اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران ایران پر کیے گئے فضائی حملوں میں شریک امریکی جنگی طیاروں نے اسرائیلی فضائی اڈوں سے پروازیں کیں، ایران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ امریکی طیارے اور فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اسرائیلی اڈوں سے ہی کارروائیوں کے لیے روانہ ہوتے رہے ہیں۔
اسرائیلی ٹیلی وژن کو دیے گئے انٹرویو میں اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ایران نے اپنی کارروائیوں میں اسرائیل کے سوا دیگر مقامات کو نشانہ بنایا، تاہم اگر تہران نے اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی کی تو اسے سخت اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل ہر ممکن ردعمل کے لیے تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف خود کارروائی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا چاہتا ہے، تاہم اس معاملے پر امریکا فی الحال اس منصوبے کی حمایت نہیں کر رہا، اس حوالے سے دونوں اتحادیوں کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیرِ دفاع نے فوج کو مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری فوجی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ بیان کے مطابق فوج کو ایک اور فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر قبضے کی تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ جنین، طولکرم اور نور شمس کی طرز پر ایک اور پناہ گزین کیمپ میں بھی کارروائی کے لیے تیاریاں مکمل رکھی جائیں، تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری پیش قدمی کی جا سکے۔
عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کاٹز کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ جمعہ کے بعد سے خطے میں نسبتاً کشیدگی میں کمی دیکھی جا رہی ہے، امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف حملے روک رکھے ہیں، جس کے باعث خطے میں وقتی طور پر نسبتاً سکون برقرار ہے۔