گرین مائنڈز کا قرآن اکیڈمی کورنگی میں طلباکےلیے تربیتی کیمپ
کراچی : گرین مائنڈز پاکستان کی جانب سے قرآن اکیڈمی کورنگی میں گرمیوں کی چھٹیوں کو کارآمد بنانے کے لیے طلبا کے لیے تربیہ کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔
تین روزہ تربیتی کیمپ میں مختلف سیشنز کے دوران طلبا کو ماحول کو سمجھنے اور اس کو مزید خرابی سے بچانے کے ساتھ ساتھ بہتر کرنے کے عملی اقدامات اپنانے پر زور دیا گیا۔
گرین مائنڈز پاکستان کے لیڈ ٹرینر عبدالولی خان نے لیکچر دیتے ہوئے کہاکہ درخت ہمارے گھروں میں پائے جاتے تھے لیکن اب گلیوں تو دور کی بات محلے میں بھی دکھائی نہیں دیتے، ہمیں چاہیے کہ شکر گذاری کے طور پر اپنے یوم پیدائش پر کم از کم ایک درخت ضرور لگائیں اور اس کی حفاظت کرکے پروان بھی چڑھائیں۔

ان کاکہنا تھا کہ ایک باراستعمال کی جانے والی اشیاءکو روزمرہ کی زندگی سے بالکل ہی نکال دینا چاہیے جیسا کہ دودھ تھیلی نہیں برتن میں اور سودا سلف شاپرز کی بجائے تھیلوں میں لایا جائے۔ ٹشو پیپر کا استعمال محدود کرکے روما ل کے استعمال کو فروغ دینا چاہیے۔
دوران سیشن ایک سوال کے جواب میں عبدالولی خان کا کہنا تھا کچرے کو محدود یا کم کرنے کا ایک اہم طریقہ یہ بھی ہے کہ ہر چیز کچرے میں نہ پھینکی جائے بلکہ بہت ساری اشیاءکو دوبارہ قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے تو کوشش کریں ان کو نئی زندگی دیں اگر ایسا ممکن نہیں تو کچرہ چننے والوں یا کاٹھ کباڑ لینے والوں کو وہ سامان دے دیا جائے ۔
انہوں نے بتایا کہ ایک درخت ہمیں آکسیجن ، سایہ ، پھل ، پرندوں کو گھر(گھونسلہ)سمیت حشرات کو بھی مربوط نظام فراہم کرتا ہے لہذا کوشش کرکے شجر کاری مہمات میں حصہ لیا جائے اور جب جب موقع ملے پودے ضرور لگائے جائیں۔ گرین مائنڈز کے سیشنز کے آخری روز قران اکیڈمی کے حفظ سیکشن میں تربیہ کیمپ میں شریک طلبا نے پودے لگائے اور عزم کا اظہار کیا کہ اس مشق کو زندگی بھر معمول میں شامل رکھنے کی کوشش کریں گے۔

تربیہ کیمپ کے منتظم حافظ ریان نے گرین مائنڈز پاکستان کے سیشنز کو بچوں کے انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں نے کافی کچھ سیکھا۔یہ وہ چیزیں ہیں جو مروجہ تعلیمی نظام میں بالکل مفقود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ داری کے دور میں، دولت کمانے کی دوڑ میں اگر ایسے افراد سے واسطہ پڑے جو جذبے، خلوص اور لگن کے ساتھ فطرت اور اس سے وابستہ چیزوں کی حفاظت میں سرگرمِ عمل ہوں۔تو دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔شجرکاری پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ” دل کے ساتھ ساتھ ہماری اجڑا چمن بھی باغ باغ ہوگیا۔“