آبنائے ہرمز کھولنے کا معاہدہ قریب، ایران میں آخری منظوری کا انتظار
آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھولنے کے مجوزہ معاہدے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران، امریکا اور عمان سے متعلق فریم ورک اب ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری کا منتظر ہے اور منظوری کے بعد ہی اعلان ممکن ہوگا۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوز نے ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ ایرانی کونسل جلد منظوری دے سکتی ہے، تاہم معاہدے کے باضابطہ اعلان کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔
مجوزہ انتظام کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مشترکہ نگرانی کریں گے۔ جہازوں پر ٹول یا راہداری فیس نہیں ہوگی۔ مزید یہ کہ داخلے اور اخراج کے لیے الگ بحری راستے بنائے جائیں گے۔
ابتدائی معاہدہ 60 روز تک نافذ رہنے کی توقع ہے۔ اس دوران واشنگٹن اور تہران مستقل انتظامات اور جنگ بندی سمیت دوسرے تنازعات پر بات چیت جاری رکھیں گے، جب کہ امریکا آزاد بحری تجارت برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی مختلف نوعیت کے قانون کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس میں بعض جہازوں پر فیس اور پابندیوں کی تجاویز شامل ہیں اور خلاف ورزی پر کارگو مالیت کے 20 فیصد تک جرمانہ بھی تجویز ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حتمی معاہدہ ابھی نہیں ہوا، تاہم انہوں نے جلد اتفاق رائے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
اُدھر ایران نے امریکی دباؤ پر تنقید کرتے ہوئے عمان کے ساتھ بات چیت جاری رہنے کی تصدیق کی۔
واضح رہے کہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک بھی مجوزہ انتظام کی حمایت کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت اور خلیجی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ معاہدہ طے پایا تو وسیع تر ایران امریکا مذاکرات کی راہ بھی کھل سکتی ہے۔