اخراجات میں کمی: حکومت کو 2 ہفتوں میں 24 وزارتیں و محکمے بند کرنے کی ہدایت
اسلام آباد: سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے اٹھارہویں ترمیم نے وفاقی حکومت کو 2 ہفتوں کے اندر 2 درجن غیر ضروری وزارتیں اور محکمے بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ ان اداروں کو ملازمین کے مفادات کو نقصان پہنچائے بغیر فوری طور پر ختم یا صوبوں کے حوالے کیا جائے۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اخراجات 190 کھرب روپے سے بڑھ کر ملکی معیشت پر بوجھ بن چکے ہیں، جنہیں 130 کھرب تک لانے کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ وزارتیں صرف افسر شاہی کو نوازنے کے لیے برقرار رکھی گئی ہیں۔
کمیٹی نے وفاقی حکومت کو مزید ہدایت کی کہ وہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا عمل فوری روک دے۔ کمیٹی کے مطابق ڈسکوز پر ملکی آئین کے تحت صوبوں کا حق ہے، اس لیے ان کی نجکاری مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر کرنا آئین کی صریح خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
ارکان کمیٹی نے حکومت کو کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کو ازسرنو تشکیل دیا جائے اور اسے آئینی اختیار سونپا جائے۔
مزید برآں، صحت، تعلیم، فوڈ سیکیورٹی، ریلویز، پٹرولیم اور موسمیاتی تبدیلی سمیت متعدد وفاقی وزارتیں ختم کرنے یا صوبوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے مزید کہا کہ کیبنٹ ڈویژن 15 روز کے اندر ان ہدایات پر عملدرآمد کی پہلی رپورٹ جمع کرانے کا پابند ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے آئینی تقاضوں کو پورا نہ کیا تو یہ معاملہ استحقاق کمیٹی میں بھیجا جائے گا تاکہ عوامی مفاد میں فیصلہ سازی ہو سکے۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا براڈ کاسٹنگ کے حقوق صوبوں کے حوالے کیے جائیں اور پرنٹ میڈیا کی ریگولیشن کا عمل بھی ختم کیا جائے۔ وفاقی کنٹرول میں موجود ان شعبوں کو صوبائی دائرہ کار میں لانا اٹھارویں ترمیم کی روح کے عین مطابق ہے جس سے وفاقی بوجھ کم ہوگا۔