|

اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کیلئے حکومت کا سخت انتباہ، نئی ہدایات جاری

اسلام آباد: اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لیے حکومت نے اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امیگریشن قوانین، لائسنس کی شرائط اور متعلقہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ڈی جی بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بعض اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز امیگریشن آرڈیننس، امیگریشن رولز 1979 اور لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیرون ملک ملازمتوں کے اشتہارات جاری کر رہے ہیں، جو قانون کے منافی ہے۔

اعلامیے کے مطابق بیرون ملک ملازمتوں کے اشتہارات شائع یا نشر کرنے سے پہلے متعلقہ پروٹیکٹر آف امیگریشن سے پیشگی منظوری لینا لازمی ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر منظور شدہ اشتہارات شہریوں کو جعلی ملازمتوں، مالی فراڈ اور غیر قانونی بھرتیوں کے خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔

بیورو نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ پروموٹرز کے خلاف لائسنس کی معطلی یا منسوخی سمیت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ سنگین نوعیت کے معاملات مزید کارروائی کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے رجسٹرڈ ملازمین کسی دوسرے کاروبار، جیسے ٹریول ایجنسی، حج و عمرہ سروس یا ٹریڈ ٹیسٹنگ سینٹر میں خدمات انجام نہیں دے سکتے۔ اسی طرح وہ سب ایجنٹ یا مڈل مین کے طور پر بھی کام کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔

بیورو آف امیگریشن نے واضح کیا کہ بیرون ملک افرادی قوت کی بھرتی، امیدواروں کی جانچ، انٹرویوز، انتخاب اور امیگریشن پراسیسنگ کی تمام ذمہ داری صرف لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کی ہے، جسے کسی دوسرے ادارے یا ٹریڈ ٹیسٹنگ سینٹر کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

اعلامیے کے مطابق اگر کوئی پروموٹر دیگر تجارتی سرگرمیوں میں بھی مصروف ہے تو اسے الگ دفتر، الگ عملہ اور علیحدہ انتظامی ڈھانچے کے تحت چلانا ہوگا تاکہ تمام قانونی تقاضوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے تمام پروٹیکٹرز آف امیگرنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ باقاعدگی سے دفاتر کا معائنہ کریں اور مسلسل خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *