بھارت اور چین
| |

بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی، تازہ واقعات شدت اختیار کرگئے

نئی دہلی: بھارت اور چین کے درمیان متنازع ہمالیائی سرحد پر ایک بار پھر حالات کشیدہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اس حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ چین کے ساتھ سرحدی معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری کا انحصار سرحد پر امن و سکون برقرار رکھنے پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدی معاملات میں تحمل کا مظاہرہ کرنا ہی دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کی سمت کا تعین کرنے والا اہم پیمانہ ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اروناچل پردیش کے علاقے تیکسن میں جولائی کے آخر اور اگست کے اوائل میں بھارتی اور چینی فوجیوں کے درمیان آمنے سامنے کی صورتحال پیدا ہوئی۔ کچھ دعووں کے مطابق چینی اہلکاروں نے بھارتی حدود میں خیمے بھی نصب کیے تھے۔

تاہم بھارتی دفاعی حکام نے ان تمام اطلاعات کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

بھارتی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان رپورٹس کی کوئی قابلِ اعتماد تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ مقامی سطح پر کچھ حلقے سرحدی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے صورتحال کو مجموعی طور پر مستحکم قرار دیا ہے۔ چینی حکام نے کہا کہ دونوں ممالک سفارتی اور فوجی ذرائع سے رابطے میں ہیں اور سرحدی علاقوں میں امن و امان کے تحفظ کے لیے باہمی اتفاق رائے پر کاربند ہیں۔

یاد رہے کہ جون 2020 میں وادی گلوان میں ہونے والی خونریز جھڑپ میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا تھا، جس کے بعد سے سرحد پر حالات حساس بنے ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد سے دونوں ملکوں نے متنازع علاقے میں بھاری نفری تعینات کر رکھی ہے۔

تاہم رواں برسوں میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے مابین بات چیت کے بعد کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی واضح کر چکے ہیں کہ معمول کے دوطرفہ تعلقات کے لیے سرحد پر مکمل امن اور سکون لازمی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *