صحت کی خرابی کے باعث بنگلادیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، عبوری صدر مقرر
ڈھاکا: بنگلادیش کے صدر صدر محمد شہاب الدین نے صحت کی خرابی کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمان کے اسپیکر اسپیکر حفیظ الدین احمد عبوری صدر کے طور پر صدارتی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق76 سالہ صدر محمد شہاب الدین اپریل دو ہزار تئیس میں بنگلادیش کے صدر منتخب ہوئے تھے اور ان کی آئینی مدتِ صدارت 2028 میں مکمل ہونا تھی، صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث انہوں نے مدت پوری ہونے سے قبل ہی عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
اپنے بیان میں صدر محمد شہاب الدین نے بتایا کہ حالیہ طبی معائنے کے دوران ان میں آٹونومک نیوروپیتھی نامی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے،اس مرض کے باعث انہیں بعض اوقات اچانک مختصر وقت کے لیے بے ہوشی یا ہوش کھونے کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ صدارتی فرائض مؤثر انداز میں انجام دینے سے قاصر ہیں، عوامی خدمت ان کے لیے ہمیشہ باعثِ فخر رہی لیکن موجودہ طبی حالات میں ذمہ داریوں کو مطلوبہ معیار کے مطابق نبھانا ممکن نہیں رہا۔
صدر کے پریس سیکرٹری نے بتایا کہ بنگلادیش کے آئین کے مطابق اسپیکر حفیظ الدین احمد عبوری صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے جبکہ آئندہ نوّے روز کے اندر پارلیمان نئے صدر کا انتخاب کرے گی۔ بنگلادیش میں صدر کا انتخاب براہِ راست عوام نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے ارکان کے ووٹوں سے کیا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر محمد شہاب الدین کو سابق وزیراعظم سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی گزشتہ کچھ عرصے سے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھیں
خیال رہے کہ مقامی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ انہوں نے رواں سال مئی میں برطانیہ میں علاج کے دوران بھارت میں موجود سابق وزیراعظم شیخ حسینہ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا تھا۔
صدر محمد شہاب الدین نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے استعفے کی واحد وجہ صحت کے مسائل ہیں، وہ مختلف طبی پیچیدگیوں کا شکار ہیں اور اس مرحلے پر اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔