آبنائے ہرمز مکمل کھولنے کیلیے امریکا تمام شرائط تسلیم کرنا ہوں گی، پاسدارانِ انقلاب
تہران: ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اسی صورت مکمل طور پر کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی تمام شرائط تسلیم کرے گا جبکہ ایران نے عمان کے ساتھ جاری مذاکرات میں کسی بھی بیرونی فریق کی مداخلت کی مخالفت کردی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا فیصلہ ایران کی شرائط سے براہِ راست منسلک ہے اور دشمن ممالک کو اگر آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت بحال کرانی ہے تو انہیں ایران کی تمام شرائط تسلیم کرنا ہوں گی۔
بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا عمان کے ساتھ جاری مذاکرات سے براہِ راست منسلک نہیں ہے اور کسی بیرونی فریق کو ان مذاکرات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، ایران اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہونے والے کسی بھی انتظام کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے لیے یہ آبی گزرگاہ صرف ایک تجارتی راستہ نہیں بلکہ ملک کی جغرافیائی اور تزویراتی طاقت کا ایک اہم ذریعہ ہے،آبنائے ہرمز ایران کی سلامتی، علاقائی اثر و رسوخ اور معاشی مفادات کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے مزید کہا کہ اگر مخالف ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانا چاہتے ہیں تو انہیں ایران کی تمام شرائط تسلیم کرنا ہوں گی، تہران آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کو وسیع تر سیاسی، دفاعی اور سفارتی معاملات کے حل سے جوڑ رہا ہے۔
خیال رہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے ایک عارضی انتظام طے پانے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان محدود بحری آمدورفت کی بحالی کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اور فریقین کسی عبوری انتظام تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس حوالے سے کہا ہے کہ ایران اور عمان ایک نئے بحری انتظام کے قریب پہنچ چکے ہیں، اس انتظام کے مکمل نفاذ کے لیے بعض معاملات پر مزید اتفاق رائے حاصل کرنا باقی ہے۔
دوسری جانب امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران، امریکا اور عمان کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری سمجھوتے پر کام کر رہے ہیں، انتظام تقریباً 60 روز کے لیے نافذ کیا جاسکتا ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی جاسکتی ہے۔
ایگزیوس کے نامہ نگار باراک راویڈ نے ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایرانی مذاکرات کار معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تہران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری کے منتظر ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان محدود بحری انتظام کے قریب پہنچ گئے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز میں مکمل اور معمول کے مطابق بحری آمدورفت کی بحالی تاحال حتمی معاہدے سے مشروط ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی قیادت کی منظوری اور امریکا و ایران کے درمیان بنیادی اختلافات کا حل بھی اہم رکاوٹیں قرار دی جارہی ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تزویراتی بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک توانائی کی ترسیل کے لیے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق کسی بھی پابندی یا محدود انتظام کے عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
ایرانی حکام کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کو صرف ایک بحری یا تجارتی معاملہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے وسیع تر قومی سلامتی اور تزویراتی مفادات سے جوڑ رہا ہے جبکہ عبوری بحری انتظام کے حوالے سے ایران، عمان اور دیگر فریقوں کے درمیان مذاکرات آئندہ دنوں میں اہم پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔