ڈونلڈ ٹرمپ کی نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری، درجنوں ممالک متاثر ہونے کا امکان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف (کسٹم ڈیوٹیز) عائد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ عارضی عالمی ٹیرف کی مدت ختم ہونے کے بعد نئی درآمدی ڈیوٹیز نافذ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق چوبیس جولائی کو عارضی دس فیصد عالمی ٹیرف کی مدت ختم ہونے کے بعد امریکی انتظامیہ نئے ٹیرف کا اعلان کر سکتی ہے، بیشتر ممالک پر دس فیصد ٹیرف برقرار رکھا جا سکتا ہے، بعض ممالک پر اس سے زیادہ شرح کے ٹیرف عائد کرنے کے لیے بھی قانونی بنیاد تیار کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مختلف تجارتی شراکت داروں کے خلاف درآمدی محصولات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا اور تجارتی خسارہ کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
اس سے قبل گزشتہ روز امریکی انتظامیہ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں اور دیگر مصنوعات پر پچاس فیصد درآمدی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا، جو آئندہ ماہ سے نافذ العمل ہوگا۔ اس فیصلے کو امریکا اور کینیڈا کے تجارتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بیس فروری دو ہزار چھبیس کو امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مستقل بنیادوں پر ٹیرف عائد کرنے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے روک دیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں خاص طور پر ان ٹیرفس کو کالعدم قرار دیا تھا جو انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت مختلف ممالک پر نافذ کیے گئے تھے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ کانگریس نے اس قانون کے تحت صدر کو یکطرفہ طور پر درآمدی ڈیوٹیز عائد کرنے کا اختیار نہیں دیا، اس لیے ان ٹیرفس کی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔
عدالتی فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک متبادل قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے سیکشن 122 کے تحت پندرہ فیصد عالمی درآمدی ٹیکس نافذ کیا تھا، ایسے ٹیرف صرف ایک سو پچاس دن کے لیے عارضی طور پر نافذ کیے جا سکتے ہیں، جن کی مدت چوبیس جولائی دو ہزار چھبیس کو مکمل ہو رہی ہے۔