| |

اسرائیل اور لبنان مذاکرات کا نیا دور 4 اگست سے روم میں شروع ہوگا

روم/واشنگٹن: امریکا نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا آئندہ دور 4 سے 6 اگست تک اٹلی کے دارالحکومت روم میں منعقد ہوگا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی لانا اور جنوبی لبنان کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اہم امور پر پیش رفت کرنا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مذاکرات امریکا کی ثالثی میں ہوں گے، جن میں اسرائیل اور لبنان کے سرکاری نمائندے شریک ہوں گے۔ اس سے قبل اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی بھی مذاکرات کے نئے مرحلے کی تاریخوں کا اعلان کر چکے ہیں، جس کے بعد واشنگٹن نے بھی اس شیڈول کی توثیق کر دی۔

رپورٹس کے مطابق مذاکرات کے دوران جنوبی لبنان میں قائم دو پائلٹ زونز سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کے معاملے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ اس کے علاوہ جنگ بندی سے متعلق موجودہ انتظامات، سرحدی سلامتی اور دیگر سیکیورٹی امور بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان موجودہ فریم ورک معاہدہ رواں سال پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت جنوبی لبنان میں استحکام، لبنانی فوج کی تعیناتی، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے امکانات اور اسرائیلی افواج کے تدریجی انخلا جیسے معاملات پر غور کیا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روم میں ہونے والے مذاکرات خطے میں امن کی کوششوں کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر دونوں فریق کسی نئے اتفاقِ رائے تک پہنچ جاتے ہیں تو جنوبی لبنان میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہونے، سرحدی تناؤ میں کمی آنے اور سفارتی عمل کو مزید آگے بڑھانے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *