مصنوعی مٹھاس دماغی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے: تحقیق
چینی سے پرہیز اور موٹاپے یا ذیابیطس جیسے امراض سے بچنے کے لیے مصنوعی مٹھاس کو بہتر متبادل سمجھنے والے افراد کے لیے ایک نئی طبی تحقیق نے تشویشناک پہلو اجاگر کیا ہے، ان مصنوعات کا زیادہ استعمال دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے اور وقت کے ساتھ دماغی تنزلی کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے طبی جریدے میں شائع ہوئی، جس میں مصنوعی مٹھاس اور دماغی افعال میں بتدریج آنے والی کمزوری کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے دوران 13 ہزار سے زائد افراد کے اعداد و شمار کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ مختلف مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والوں کی دماغی کارکردگی کس حد تک متاثر ہوتی ہے۔
تحقیق میں روزمرہ استعمال ہونے والی 7 معروف مصنوعی مٹھاس کو شامل کیا گیا، جنہیں کم حراروں والی غذاؤں، مشروبات اور انتہائی پراسیس شدہ اشیائے خورونوش میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔
شرکاء کی صحت اور غذائی عادات کا مسلسل 8 سال تک مشاہدہ کیا گیا، جبکہ ان سے تفصیلی سوالناموں کے ذریعے گزشتہ ایک سال کے دوران کھائی جانے والی غذاؤں اور مشروبات کی مکمل معلومات بھی حاصل کی گئیں۔
اسی بنیاد پر محققین نے شرکاء کو مصنوعی مٹھاس کے استعمال کے لحاظ سے 3 مختلف گروہوں میں تقسیم کیا۔ ایک گروہ میں وہ افراد شامل تھے جو روزانہ اوسطاً صرف 20 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے جبکہ دوسرے سرے پر موجود گروہ کے افراد کی یومیہ اوسط مقدار تقریباً 191 ملی گرام ریکارڈ کی گئی۔
تحقیق کے آغاز، دورانِ مشاہدہ اور اختتام پر تمام شرکاء کے دماغی افعال کا مختلف آزمائشی مراحل کے ذریعے جائزہ لیا گیا، جن میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی کے متعدد امتحانات بھی شامل تھے تاکہ وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
تحقیقی نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں دماغی تنزلی کی رفتار، کم مقدار استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ تیز دیکھی گئی۔ اسی طرح درمیانی یا معتدل مقدار استعمال کرنے والے افراد میں بھی دماغی تنزلی کی رفتار 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق اگرچہ مصنوعی مٹھاس کو عام طور پر چینی کا نسبتاً صحت بخش متبادل سمجھا جاتا ہے، تاہم اس تحقیق سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ بعض اقسام کی مصنوعی مٹھاس طویل مدت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مصنوعی مٹھاس براہِ راست دماغی تنزلی کا سبب بنتی ہے، بلکہ فی الحال دونوں کے درمیان صرف ایک تعلق سامنے آیا ہے۔ ان کے بقول اس ممکنہ تعلق کی اصل وجوہات جاننے اور حتمی نتائج اخذ کرنے کے لیے مزید سائنسی تحقیقات ناگزیر ہیں۔