ایسٹر بم دھماکوں کی روک تھام میں ناکامی، سری لنکا کے سابق پولیس چیف کو سزائے موت
کولمبو: سری لنکا کی خصوصی عدالت نے 2019 کے ایسٹر بم دھماکوں سے متعلق اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق پولیس سربراہ پوجتھ جے سندرا اور سابق سیکریٹری دفاع ہیماسری فرنینڈو کو سزائے موت سنا دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ دونوں اعلیٰ عہدیدار انٹیلی جنس اداروں کی پیشگی وارننگ کے باوجود حملوں کو روکنے میں ناکام رہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سری لنکا کے نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ خصوصی عدالت نے دونوں سابق حکام کو متعدد سنگین الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے مجرمانہ غفلت، قتل، اقدامِ قتل اور بروقت کارروائی نہ کرنے کی دفعات کے تحت سزا سنائی۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سکیورٹی اداروں کو حملوں سے قبل خطرے سے متعلق اطلاعات موصول ہو چکی تھیں، تاہم متعلقہ حکام نے ان اطلاعات پر مؤثر اقدامات نہیں کیے، جس کے نتیجے میں ملک کی تاریخ کے بدترین دہشت گرد حملوں میں سے ایک پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق فیصلہ سامنے آنے کے بعد سابق سیکریٹری دفاع ہیماسری فرنینڈو اور سابق پولیس سربراہ پوجتھ جے سندرا کے وکلا کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ اگرچہ سری لنکا میں سزائے موت قانونی طور پر موجود ہے، تاہم کئی برسوں سے اس پر عملی طور پر عمل درآمد معطل ہے اور عمومی طور پر ایسے فیصلوں کو بعد میں عمر قید میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
یہ مقدمہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ 2022 میں ہائی کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے دونوں سابق عہدیداروں کو انہی الزامات سے بری کر دیا تھا، تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو چیلنج کیے جانے پر مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا، جس کے بعد رواں سال مارچ میں نئے سرے سے عدالتی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
یاد رہے کہ 21 اپریل 2019 کو ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں ہونے والے مربوط دہشت گرد حملوں میں 3 گرجا گھروں اور 3 ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حملوں میں 279 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے، اور یہ سانحہ سری لنکا کی تاریخ کے مہلک ترین دہشت گرد حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔