بھارت میں حکومت کیخلاف مظاہروں پر عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس نے نئی بحث چھیڑ دی
بھارت میں نوجوانوں اور طلبہ کے احتجاجی مظاہروں نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے، جہاں مختلف بین الاقوامی اداروں نے مظاہروں، پولیس کی کارروائیوں اور حکومتی ردعمل پر تفصیلی رپورٹس شائع کی ہیں۔
ان رپورٹس میں احتجاجی تحریک کو حالیہ برسوں میں بھارتی حکومت کو درپیش نمایاں عوامی چیلنجز میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر بھارتی پولیس نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نوجوان طلبہ کی جانب سے جاری احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ملک میں جاری ’کاکروچ‘ کے نام سے منسوب احتجاجی تحریک بھارتی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ احتجاج ملک کے مختلف علاقوں تک پھیل چکا ہے، جس کے باعث حکومت کو بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی اپنی رپورٹ میں حالیہ احتجاج کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی سطح پر سامنے آنے والے نمایاں چیلنجز میں شمار کیا ہے۔
اسی طرح سی این بی سی نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا کہ 2029 کے عام انتخابات سے قبل حکومت مخالف جذبات میں اضافہ سیاسی منظرنامے پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ان کے خلاف احتجاج کو موجودہ صورتحال کی بنیادی وجوہات میں شامل کیا گیا ہے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے ان معاملات پر اپنا مؤقف بھی سامنے آتا رہا ہے، جبکہ احتجاج اور اس سے متعلق مختلف دعوؤں پر ملک کے اندر سیاسی اور عوامی بحث بدستور جاری ہے۔