عمران خان کا معائنہ پمز اسپتال میں، مکمل صحت مند، ڈاکٹروں نے تصدیق کر دی
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا پمز اسپتال میں طبی معائنہ کیا گیا جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں مکمل طور پر صحت مند قرار دے دیا۔
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ عمل سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مکمل کیا گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے تحت اڈیالہ جیل سے اسپتال لے جایا گیا۔ اس دوران سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے تھے اور اسپتال کے اطراف ہائی الرٹ رہا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں، قیدی کو 20 اور 21 اگست 2026 کی درمیانی شب مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت ہسپتال لے جایا گیا۔ ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔ ان کی ہمشیرہ…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) August 21, 2026
طبی معائنے کے لیے ماہر امراض قلب، ماہر امراض چشم اور فزیشن سمیت ڈاکٹروں پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ اس ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی معائنہ کیا اور ان کی صحت کے حوالے سے تمام ضروری طبی امور کو بخوبی انجام دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ طبی معائنے کے دوران بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی وہاں موجود تھیں۔ ان کی موجودگی میں تمام طبی مراحل مکمل کیے گئے اور ڈاکٹروں نے انہیں طبی اعتبار سے مکمل طور پر تندرست اور صحت مند قرار دیا ہے۔
طبی جانچ کے تمام مراحل کی تکمیل کے بعد 21 اگست کی صبح انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ جیل ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو صبح سویرے سخت سکیورٹی حصار میں واپس لایا گیا اور انہیں واپس ان کے مخصوص کمپاؤنڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
کچھ مزید تفصیلات:
طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کرایا گیا جس میں الشفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔
پی ٹی ائی کے کارکنوں کی طرف سے جو سیکیورٹی کی صورتحال الشفا ہسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے مطابق وہ صحت… https://t.co/soNoD1bmu1
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) August 21, 2026
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بعد انہیں اسپتال منتقلی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس موقع پر آئی جی اسلام آباد خود اسپتال میں موجود تھے تاکہ سکیورٹی کے انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ان کی منتقلی کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں تاہم حکومتی ترجمان نے تمام تر تفصیلات واضح کر دی ہیں۔ اب بانی پی ٹی آئی دوبارہ اڈیالہ جیل میں موجود ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں سرکاری طور پر اطمینان بخش رپورٹ سامنے آ چکی ہے۔