امریکی طیارہ بردار
| |

امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن 9 ماہ طویل تعیناتی کے بعد مشرقِ وسطیٰ سے وطن روانہ

واشنگٹن: امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ میں 9 ماہ طویل تعیناتی اور اہم فوجی آپریشنز مکمل کرنے کے بعد اپنے وطن سان ڈیاگو کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔

بینا لاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس مشن کے دوران 5 ہزار سے زائد ملاحوں نے سمندر میں 272 دن گزارے۔

جہاز پر تعینات عملے کو اب وطن پہنچنے کے لیے مزید 13 ہزار میل کا طویل فاصلہ طے کرنا ہوگا جس میں 4 سے 5 ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس طویل عرصے میں جہاز کا مختصر قیام صرف گوام اور عمان میں ہی ممکن ہو سکا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے تک سمندر میں فرائض انجام دینا ایک بڑی ذمہ داری ہے جس کا صلہ اب اہل خانہ سے ملاقات کی صورت میں ملے گا۔

تازہ پیش رفت کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ابراہم لنکن کی جگہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن نے سنبھال لی ہے جو جاپان سے منتقل ہو کر باقاعدہ آپریشنز شروع کر چکا ہے۔

امریکی بحریہ اس وقت خطے میں تقریباً 20 جنگی جہازوں کے ساتھ اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے تاکہ اہم میری ٹائم روٹس پر نگرانی کی جا سکے۔

قبل ازیں تعیناتی کے دوران جہاز پر پلمبنگ کی خرابی، پانی کی آلودگی اور عملے کی ذہنی صحت کے حوالے سے کچھ مسائل کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ امریکی قانون سازوں نے ان خدشات پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم ایڈمرل بریڈ کوپر نے ان معاملات کو پرانا مسئلہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

واضح رہے کہ یہ بحری بیڑے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی پر عمل درآمد کر رہے ہیں جس کے اب 38 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ ان جہازوں میں جارج ایچ ڈبلیو بش اور دیگر ڈسٹرائرز بھی شامل ہیں جو خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح مستعد ہیں۔

امریکی بحریہ خطے میں اپنی عسکری طاقت کے ذریعے ایران کے خلاف آپریشنز کی نگرانی کر رہی ہے۔ ان جہازوں کا بنیادی مقصد علاقائی سلامتی کو یقینی بنانا اور رسد کے تمام راستوں کو محفوظ رکھنا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری موجود رہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *