لاہورغازی آباد تھانے
|

لاہورغازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی؟ابتدائی میڈیکل رپورٹ نے کیس کا رخ بدل دیا

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) غازی آباد پولیس اسٹیشن میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے ہولناک الزام نے کھلبلی مچا دی، تاہم ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد معاملے میں نیا موڑ آگیا ہے۔ ابتدائی طبی معائنے میں لڑکی سے زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔

ذرائع کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس اہلکار عمران نے واقعے سے متعلق اپنا بیان بھی ریکارڈ کرا دیا ہے۔

پولیس اہلکار عمران کے مطابق متاثرہ لڑکی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بھیک مانگتی تھی اور اہل خانہ کو متعدد مرتبہ بھیک مانگنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق مبینہ طور پر بھیک مانگنے سے باز نہ آنے پر لڑکی کو ڈرانے کے لیے پولیس اسٹیشن لایا گیا۔

اہلکار کا دعویٰ ہے کہ لڑکی کو کچھ دیر تھانے میں رکھا گیا، تاہم جب وہ رونے لگی تو اسے اس کے والدین کے پاس واپس بھیج دیا گیا۔

مبینہ زیادتی کا الزام، میڈیکل رپورٹ میں شواہد غائب

معاملے میں سب سے اہم پیش رفت ابتدائی میڈیکل رپورٹ ہے، جس کے مطابق لڑکی کے ساتھ زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔ تاہم حکام کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ کو حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا اور مکمل حقیقت فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اہلکار کے بیان، ابتدائی طبی رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

اصل حقیقت کیا ہے؟

مبینہ زیادتی کے سنگین الزام نے پولیس اسٹیشن کے کردار پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب ابتدائی میڈیکل رپورٹ نے معاملے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ اب سب کی نظریں فرانزک رپورٹ پر ہیں، جس کے بعد یہ واضح ہوسکے گا کہ تھانے میں لڑکی کے ساتھ اصل میں کیا ہوا۔

حکام نے مکمل تحقیقات اور تمام شواہد سامنے آنے تک حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے گریز کیا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *