|

عالمی سطح پر اشیائے خورونوش کی قیمتیں 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

عالمی سطح پر اشیائے خورونوش کی قیمتیں جولائی میں تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق جولائی کے دوران عالمی سطح پر اشیائے خورونوش کی قیمتیں تین سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ایران، امریکا تنازع سمیت دیگر جغرافیائی و سیاسی عوامل نے خوراک کی عالمی قیمتوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔

ایف اے او پرائس انڈیکس، جو عالمی اجناس کی قیمتوں میں ماہانہ تبدیلیوں کی نگرانی کرتا ہے، جولائی میں بڑھ کر 131.1 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جبکہ جون میں یہ 130.3 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ادارے کے مطابق یہ جنوری 2023 کے بعد خوراک کی عالمی قیمتوں کی بلند ترین سطح ہے۔

ایف اے او کے چیف اکنامسٹ نے حال ہی میں ایک خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ دنیا ایک مرتبہ پھر خوراک کی مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران اور یوکرین سے متعلق تنازعات کے ساتھ ساتھ ایل نینو جیسے موسمی رجحانات بھی زرعی پیداوار اور فصلوں کی کاشت کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *