حکومت سے کامیاب مذاکرات، کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاج ختم کر دیا
بھارت میں امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری احتجاج بالآخر مذاکرات کے بعد ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ مرکزی حکومت نے اس کے تمام اہم مطالبات منظور کر لیے ہیں، جس کے بعد مظاہرین سے پرامن طور پر دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق کروچ جنتا پارٹی کے ترجمان نے مرکزی وزیر جے پی نڈا اور وزیر مملکت جتیندر سنگھ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات مثبت رہے اور تمام بنیادی مطالبات پر اتفاق ہو گیا ہے۔
سی جے پی کے ترجمان نے تمام کارکنوں اور مظاہرین سے کہا کہ وہ فوری طور پر احتجاج ختم کر کے گھروں کو واپس چلے جائیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں، جبکہ نیٹ (NEET) امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو مالی معاوضہ بھی دیا جائے گا۔ احتجاج کے دوران تنظیم کے کارکنوں کے خلاف ملک بھر میں درج تمام مقدمات واپس لینے پر بھی اتفاق کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق تنظیم کے پیش کردہ 5 نکاتی ایجنڈے کو بھی حکومت نے اصولی طور پر قبول کر لیا ہے، جبکہ اس حوالے سے آئندہ بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ اصلاحاتی اقدامات کو عملی شکل دی جا سکے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں سی جے پی کی قیادت یا کارکنوں کے خلاف احتجاجی سرگرمیوں کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، جبکہ اس یقین دہانی کو آئندہ منگل تک تحریری شکل میں بھی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی نے مئی 2026 میں نئی دہلی میں احتجاجی تحریک شروع کی تھی، جو مسلسل کئی ہفتوں تک جاری رہی۔ اس دوران سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 26 روزہ بھوک ہڑتال کی تھی۔
20 جولائی کو تنظیم کی جانب سے جنتر منتر میں بڑے احتجاج کی اپیل پر ہزاروں نوجوان جمع ہوئے تھے، تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا تھا۔
بعد ازاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے نوجوانوں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی، تاہم مظاہرین وزیر تعلیم کے استعفے اور امتحانی نظام میں مؤثر اصلاحات کے مطالبات پر قائم رہے۔ اس دوران مختلف اپوزیشن جماعتوں اور متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے مطالبات کی حمایت کا اظہار کیا۔