میکسیکن: ہری مرچوں سے سالمونیلا پھیلنے کا خدشہ، امریکا کی 27 ریاستوں میں 345 افراد بیمار
واشنگٹن: امریکا میں میکسیکو سے درآمد کی جانے والی ہری مرچوں (جالاپینو) سے منسلک سالمونیلا بیماری کے پھیلاؤ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جس کے باعث 27 ریاستوں میں 345 افراد بیمار ہو چکے ہیں جبکہ 36 افراد کو اسپتال منتقل کرنا پڑا ہے، اب تک اس وبا سے کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی ادارہ برائے بیماریوں کے کنٹرول و تدارک (سی ڈی سی) اور ادارہ خوراک و ادویات (ایف ڈی اے) کے مطابق سالمونیلا کے پھیلاؤ کا تعلق میکسیکو سے درآمد کی جانے والی جالاپینو مرچوں سے سامنے آیا ہے۔ ان مرچوں کے سپلائر کوسٹ سٹرس ڈسٹری بیوٹرز نے متاثرہ مصنوعات واپس منگوانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ مرچیں امریکا میں مختلف ریستورانوں کو فراہم کی گئی تھیں، جن میں مشہور میکسیکن فوڈ چینز چپوٹلے میکسیکن گرِل اور کیوڈوبا بھی شامل ہیں،بیماری کے کیسز 19 جون سے 20 جولائی کے درمیان سامنے آئے۔ سالمونیلا انفیکشن کے باعث عام طور پر اسہال، بخار اور پیٹ میں شدید درد کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، یہ بیماری چھوٹے بچوں، بزرگ افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ متاثرہ جالاپینو مرچیں میکسیکو کی ریاست سینالوآ میں موجود ایک مشترکہ کاشت کار سے حاصل کی گئی تھیں، جنہیں امریکا میں کوسٹ سٹرس ڈسٹری بیوٹرز نے تقسیم کیا۔
ایف ڈی اے نے بتایا کہ کمپنی نے باقی ماندہ متاثرہ مصنوعات واپس منگوانے پر اتفاق کر لیا ہے اور متعلقہ صارفین کو بھی مطلع کیا جا رہا ہے۔ ادارے نے صارفین اور کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سینالوآ سے آنے والی واپس منگوائی گئی مرچوں کو نہ کھائیں، نہ فروخت کریں اور نہ ہی استعمال کریں۔
تحقیقات کے دوران امریکی حکام نے ایسے ریستورانوں کی نشاندہی کی جنہیں کوسٹ سٹرس ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے درآمد کی گئی جالاپینو مرچیں فراہم کی گئی تھیں، چپوٹلے نے 20 جولائی سے اپنے ریستورانوں کے لیے جالاپینو کے سپلائر تبدیل کر دیے ہیں، جبکہ کیوڈوبا نے 28 جولائی سے جالاپینو کا استعمال روک دیا اور اب یہ مرچیں صارفین کو فراہم نہیں کی جا رہیں۔
رپورٹ کے مطابق چپوٹلے کے حصص میں بھی کمی دیکھی گئی اور کمپنی کی جانب سے بعض ریاستوں، جن میں منی سوٹا بھی شامل ہے، کے ریستورانوں سے جالاپینو ہٹانے کے اعلان کے بعد اس کے شیئرز میں 8 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایف ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان ریستورانوں سے صارفین کو مسلسل خطرہ لاحق نہیں سمجھا جا رہا کیونکہ متاثرہ مصنوعات کو ہٹا دیا گیا ہے اور حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
خیال رہےکہ امریکا میں خوراک کے تحفظ اور ریستورانوں کی سپلائی چین پر نگرانی بڑھ گئی ہے۔ اس سے قبل بھی امریکا میں سائکلواسپوریا نامی بیماری کے پھیلاؤ کے بعد حکام نے سبزیوں اور دیگر غذائی مصنوعات کی سپلائی کے نظام کا جائزہ لیا تھا۔
امریکی صحت حکام کا کہنا ہے کہ سالمونیلا کے اس پھیلاؤ کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید معلومات سامنے آنے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔