|

دشمن کے ہتھیار ڈالنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی: ایرانی سیکیورٹی چیف

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محمد باقر ذوالقدر نے امریکا کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک مخالف فریق مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا اور مناب و لیمرد میں مارے گئے بچوں کا بدلہ نہیں لے لیا جاتا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جاری بیان میں محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ خطے میں جہاں بھی دھوئیں کے بادل دکھائی دیتے ہیں، وہ اس بات کی علامت ہیں کہ وہاں کسی امریکی فوجی، سیکیورٹی یا مالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی افواج کی مسلسل کارروائیاں قوم کے غم و غصے کی ترجمان ہیں اور یہ سلسلہ اپنے مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے اور امریکی کارروائیوں کے جواب میں فوجی دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مناب اور لیمرد میں بچوں کی ہلاکتوں کا حساب لیے بغیر ایران اپنی عسکری مہم ختم نہیں کرے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی، تاہم اس سے قبل ایران نے جوابی اقدامات کے تحت آبنائے ہرمز بند کر دی تھی اور مختلف اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔

رپورٹس کے مطابق 17 جون کو پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے بعد سوئٹزرلینڈ اور قطر میں دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی مذاکرات بھی ہوئے۔

تاہم اسلام آباد میں مذاکرات کے تیسرے مرحلے سے قبل دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر دیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ امریکی افواج گزشتہ 13 روز سے ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کر رہی ہیں، جن میں مواصلاتی نظام، پلوں اور پانی کی تنصیبات سمیت متعدد شہری ڈھانچوں کو نقصان پہنچا۔ ان حملوں میں 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے بھی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر عسکری اہداف پر جوابی حملے کیے، جن کا سلسلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بدستور جاری ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *