آبنائے ہرمز : دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ
تہران: ایران کی اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری فورسز نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن کے بارے میں ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکی فوج کی فضائی نگرانی میں ایک متبادل بحری راستہ استعمال کر رہے تھے۔
اسلامی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں آئل ٹینکروں نے آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ایران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے کے بجائے ایک “غیر اعلانیہ راستہ” اختیار کیا، جسے ایرانی حکام نے امریکا کی حمایت یافتہ متبادل گزرگاہ قرار دیا۔
ایرانی فورسز کے بیان کے مطابق مبینہ کارروائی کے بعد دونوں آئل ٹینکروں کو روک دیا گیا جبکہ مزید چار آئل ٹینکروں نے صورتحال کے پیش نظر اپنا راستہ تبدیل کر لیا اور آگے بڑھنے کے بجائے واپسی کا فیصلہ کیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے جاری کردہ بحری ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کی گئی،ایرانی حکام نے نہ تو متاثرہ آئل ٹینکروں کی شناخت ظاہر کی ہے اور نہ ہی ان پر موجود عملے یا کسی ممکنہ نقصان کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی ہیں۔
دوسری جانب امریکا یا متعلقہ بحری کمپنیوں کی جانب سے ایران کے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ آزاد ذرائع سے بھی ایرانی دعوؤں کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس گزرگاہ کی سکیورٹی پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔