|

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے، دینی و سیاسی خدمات کا طویل سفر اختتام پذیر

لاہور: جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مرحوم گزشتہ کئی برسوں سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور طویل علالت کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے۔

امیر العظیم کے انتقال کی خبر پر جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت، کارکنان اور سیاسی و مذہبی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ رہنماؤں نے مرحوم کی دینی، سیاسی، تنظیمی اور سماجی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی ہے۔

امیر العظیم کی زندگی اور سیاسی سفر

امیر العظیم کا شمار جماعت اسلامی کے اہم اور متحرک رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ وہ 1958ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی، اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے ایف ایس سی اور اسلامیہ کالج سول لائنز سے بی ایس سی کی تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔

وہ زمانہ طالب علمی ہی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوگئے تھے اور طلبہ سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے منتخب صدر رہے جبکہ بعد ازاں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ کے منصب پر بھی فائز رہے۔

طلبہ تنظیمی زندگی کے بعد امیر العظیم نے جماعت اسلامی میں عملی سیاسی سفر کا آغاز کیا اور مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ جماعت اسلامی لاہور کے سیکرٹری جنرل اور امیر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے جبکہ جماعت اسلامی وسطی پنجاب کی قیادت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

امیر العظیم طویل عرصے تک جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات بھی رہے، جہاں انہوں نے جماعت کے مؤقف کو ملکی سیاسی منظرنامے میں اجاگر کرنے میں کردار ادا کیا۔ 2019ء میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔

وہ سیاسی جدوجہد کے دوران مختلف تحریکوں میں بھی سرگرم رہے۔ وکلا تحریک کے دوران چیف جسٹس بحالی لانگ مارچ میں شرکت کے دوران وہ آنسو گیس شیل لگنے سے زخمی بھی ہوئے تھے۔امیر العظیم اپنی شعلہ بیانی، تنظیمی صلاحیتوں اور جماعتی وابستگی کے باعث جماعت اسلامی کے اندر اور مذہبی و سیاسی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔

ان کے انتقال سے جماعت اسلامی ایک تجربہ کار تنظیمی رہنما اور سیاسی کارکن سے محروم ہوگئی ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکنان نے مرحوم کے لیے مغفرت، درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *