| |

کراچی: سی ٹی ڈی نے میر رضا کی اسمارٹ واچ اَن لاک کرلی، لین دین کے حساب سمیت دیگر معلومات مل گئیں

کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے نوجوان میر رضا کی لاش ملنے کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سندھ نے میر رضا کی اسمارٹ واچ ان لاک کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق میر رضا کی اسمارٹ واچ اور موبائل فون سے ڈیٹا ڈیلیٹ کیا گیا تھا، جبکہ تاحال موبائل فون کا لاک نہیں کھولا جا سکا۔ تاہم اسمارٹ واچ ان لاک ہونے کے بعد پولیس کو مالی لین دین سمیت دیگر اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا ہے کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے بعض نتائج پر انہیں اختلاف ہے۔ ان کے مطابق رپورٹ میں درج بعض مشاہدات تصاویر سے مطابقت نہیں رکھتے، جبکہ نہ انہوں نے اور نہ ہی کرائم سین یونٹ نے میر رضا کے ہاتھوں پر گن پاؤڈر کی جانچ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید معائنے سے یہ تعین کیا جا سکتا ہے کہ لاش پر موجود نشانات تشدد کے ہیں یا پھر جسم کے گلنے سڑنے کے عمل کا نتیجہ۔

ڈاکٹر سمعیہ سید نے مزید کہا کہ یہ سوال بھی اہم ہے کہ لاش سے خون کہاں گیا اور چہرے اور جسم کے دیگر حصوں کی حالت میں اتنا واضح فرق کیوں ہے۔ ان کے مطابق دوبارہ پوسٹ مارٹم سے تحقیقات میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس مرحلے پر کوئی حتمی رائے دینا ممکن نہیں۔

دوسری جانب میر رضا کے والد حسین رضا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کی موت کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ ان کے بقول میر رضا کو قتل کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کے چہرے، جسم اور ہاتھوں کے فنگر پرنٹس کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

حسین رضا کا کہنا تھا کہ میر رضا کو پیچھے سے گولی ماری گئی، تاہم میڈیکل رپورٹ میں صرف گولی لگنے کا ذکر ہے اور مبینہ تشدد کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا 28 جولائی کو لاپتا ہوا تھا جبکہ 29 جولائی کو اس کی لاش ملی، اس دوران گزرنے والے وقت سے متعلق بھی کئی سوالات موجود ہیں۔ ان کے مطابق گھر سے روانگی کے وقت میر رضا نے اپنی بہن سے بات کی تھی، جبکہ ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ وہ خوشگوار موڈ میں تھا اور سفر کے دوران گانے بھی سن رہا تھا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے کیس کی شفاف اور مکمل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *