کراچی میں بلدیاتی
|

کراچی میں بلدیاتی تعاون کا آغاز: گلشن اقبال ٹاؤن اور ترکیہ کے 2ٹاوئنز کے درمیان معاہدہ 

کراچی:  پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوستی کو بلدیاتی سطح تک وسعت دیتے ہوئے ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال اور ترکیہ کے صوبہ کاسٹامونو کے دو ٹاؤنز انیبولو (Inebolu) اور اریچ (Araç) بیلیڈیس کے درمیان سسٹر ٹاؤن معاہدہ طے پا گیا۔معاہدے پر چیئرمین ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال ڈاکٹر فواد احمد اور صدرِ ترکیہ رجب طیب اردوان کے مشیر و ابنِ سینا انسٹیٹیوٹ ترکیہ کے صدر ڈاکٹر کمال آیدن نے دستخط کیے۔

تقریب میں بلدیہ عظمیٰ کراچی میں اپوزیشن لیڈر ایڈوکیٹ سیف الدین، جماعت اسلامی ضلع شرقی کے امیر نعیم اختر، نائب امیر ضلع عزیز الدین ظفر، کراچی کے ڈپٹی سیکریٹری وقاص اعظمی، گلشن اقبال ٹاؤن کے کوآرڈینیٹر کامران چشتی، یوسی چیئرمین ماجد خان، ناصر اشفاق، ریاض اظہر، وائس چیئرمین آصف عبدالکریم، عادل خان، گلشن اقبال ٹاؤن کے منتخب نمائندگان اور بلدیاتی افسران بھی موجود تھے۔

معاہدے کے تحت گلشن اقبال ٹاؤن اور ترکیہ کے دونوں شہروں کے درمیان بلدیاتی ترقی، شہری منصوبہ بندی، اسمارٹ سٹیز، جدید میونسپل سروسز، ٹیکنالوجی اور باہمی تجربات کے تبادلے کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ دونوں جانب کے بلدیاتی اداروں کو ایک دوسرے کے ترقیاتی ماڈلز اور کامیاب تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا۔

اس موقع پر صدرِ ترکیہ کے مشیر ڈاکٹر کمال آیدن نے کہا کہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سسٹر ٹاؤن معاہدہ گلشن اقبال کے لیے ایک روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ترکیہ کے شہروں میں ہونے والے ترقیاتی کاموں اور بلدیاتی تجربات کو گلشن اقبال ٹاؤن تک منتقل کرنے میں تعاون کیا جائے گا، تاکہ ٹاؤن کو مزید ترقی یافتہ بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر کمال آیدن نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات گہرے و مثالی اور پوری دنیا میں معروف ہیں اور اب یہ دوستی بلدیاتی سطح پر بھی مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ لاہور کے ساتھ بھی ان کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں اور وہ علامہ اقبال اور مولانا جلال الدین رومی کی شخصیات سے متاثر ہیں۔

چیئرمین گلشن اقبال ٹاؤن ڈاکٹر فواد احمد نے کہا کہ ترکیہ بلدیاتی نظام اور شہری ترقی کے شعبے میں بہت آگے ہے اور ترکیہ کے ان ترقی یافتہ شہروں کے ساتھ معاہدہ گلشن اقبال ٹاؤن کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ ترکیہ کی میونسپلٹیز شہریوں کو زندگی کے مختلف مراحل میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جس سے پاکستان کے بلدیاتی ادارے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر فواد احمد نے کہا کہ پاکستان ترکیہ اور آذربائجان سمیت ڈی 8 ممالک کے سسٹر ٹاؤنز اور دوست سمارٹ شہروں کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے جس پر دستخط کیے گئے۔ لوگوں نے جڑواں شہروں کا تصور سنا ہوگا لیکن جڑواں ٹاؤن کا یہ نیا تصور ہے جس کے تحت ہم نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سسٹر ٹاؤن معاہدے کے ذریعے ترکیہ کے کامیاب بلدیاتی اور ترقیاتی ماڈلز سے استفادہ کرتے ہوئے گلشن اقبال ٹاؤن کو مزید خوبصورت، جدید اور شہری سہولیات کے اعتبار سے بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ گلشن اقبال ٹاؤن کو کراچی اور پاکستان کے لیے ایک قابلِ تقلید بلدیاتی ماڈل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ترکیہ کے شہروں کے ساتھ یہ شراکت داری اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

چیئرمین گلشن اقبال ٹاؤن نے کہا کہ ابن سینا انسٹی ٹیوٹ نے اس معاملے میں بہت سپورٹ کیا اس انسٹیٹیوٹ کے تحت یہ ایک ہیلتھ پارک گلشن اقبال ٹاؤن میں قائم کریں گے۔ترکیہ کے بلدیاتی اداروں سے ہمیں سیکھنے کا موقع ملا ہے جہاں بچے کی پیدائش سے موت تک ہر شعبے میں شہریوں کی خدمت اور مسائل کا حل بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کراچی بھی یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ با اختیار اور خود مختار بلدیاتی نظام ہی پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے۔ اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے اس کی ایک ہلکی سی جھلک ہم نے 2001 کے بدیاتی نظام میں دیکھی تھی جب جماعت اسلامی کو شہری حکومت کے تحت تھوڑا سا اختیار ملا تو کراچی پورے پاکستان کو لیڈ کر رہا تھا اور کراچی میں پورے ملک کو لیڈ کرنے کی یہ صلاحیت آج بھی موجود ہے الحمدللہ گلشن اقبال ٹاؤن کراچی کے 25 ٹاؤنز کو لیڈ کررہا ہے جہاں ہم ترکیہ کے ٹاؤنز کے ساتھ سسٹر ٹاؤن کا تصور لے کر آئے ہیں اور اس کے ثمرات ضرور پھیلیں گے۔

ڈاکٹر فواد احمد کا کہنا تھا کہ گلشن اقبال ٹاؤن کراچی بلکہ پاکستان کے لیے مثال بنے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا وہ خواب جس کے لیے ہم سب دعائیں بھی کرتے ہیں اور فکرمند بھی ہوتے ہیں کہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو ایک ایسا ملک ملے جس میں رہنے پر فخر کر سکیں جس سے وابستگی پر ہم سب ناز کر سکیں، اسی پاکستان کی جانب یہ ہمارا پہلا بنیادی پتھر ہے اور پاکستان کی ترقی کی راہ میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

اس موقع پر کے ایم سی کے اپوزیشن لیڈر ایڈووکیٹ سیف الدین اور جماعت اسلامی ضلع شرقی کے امیر نعیم اختر نے بھی سسٹر ٹاؤن معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے گلشن اقبال ٹاؤن اور ترکیہ کے بلدیاتی اداروں کے درمیان تعاون کے فروغ کو اہم پیش رفت قرار دیا۔حکام کے مطابق سسٹر ٹاؤن معاہدے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے بلدیاتی اداروں کے درمیان رابطے، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ ترقیاتی منصوبوں کے امکانات مزید وسیع ہوں گے، جس سے مستقبل میں شہریوں کو جدید اور بہتر بلدیاتی سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔#

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *