میر رضا کی پراسرار موت پر بڑا فیصلہ، سندھ حکومت نے جوڈیشل انکوائری کا اعلان کردیا، پولیس ٹیم کمیشن کے ماتحت ہوگی
کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) میر رضا کی پراسرار موت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آگئی، سندھ حکومت نے حقائق سامنے لانے کے لیے جوڈیشل انکوائری کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ فیصلہ سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سفارش پر کیا گیا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ انہوں نے میر رضا کیس کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کی، جس میں کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ضیا الحسن لنجار کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کو کمیشن کے ماتحت کردیا جائے گا تاکہ تحقیقات شفاف اور غیر جانب دار انداز میں آگے بڑھائی جاسکیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ اب تک ہونے والی تحقیقات میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ میر رضا کی موت کے پیچھے کسی ہائی پروفائل شخصیت کا ہاتھ ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں جوڈیشل کمیشن کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کیس کی تحقیقاتی کمیٹی میں بھی تبدیلی کردی گئی ہے اور ڈی آئی جی عامر فاروقی کو نئی تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میر رضا کے اہلخانہ کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جس پولیس افسر کو تحقیقاتی ٹیم میں شامل کرنا چاہیں، اسے ٹیم کا حصہ بنایا جائے گا۔
وزیر داخلہ سندھ کے مطابق کیس کی جوڈیشل انویسٹی گیشن ہائیکورٹ کے ججز کے ذریعے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ میر رضا کیس میں قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد تحقیقات کا رخ تبدیل ہوگیا تھا۔ پولیس نے اغوا کے مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کردی ہے۔
دوسری جانب کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی پولیس ٹیم بھی تبدیل کردی گئی ہے۔ ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں پانچ رکنی نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جس کا پہلا اجلاس کل طلب کیا گیا ہے۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ جوڈیشل انکوائری کا مقصد کیس کے تمام پہلوؤں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے کر اصل حقائق سامنے لانا اور میر رضا کے اہلخانہ کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔