مودی سرکار کی جارحیت: ناقدین کی آواز دبانے کی کوششوں پر عالمی تشویش
نئی دہلی: بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے سوشل میڈیا مواد کے خلاف مبینہ کارروائیوں نے ایک بار پھر مودی حکومت پر آزادیِ اظہار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو تقویت دے دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس نے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے وزیراعظم مودی سے متعلق تنقیدی پوسٹس، ویڈیوز اور دیگر مواد ہٹانے کے لیے رابطہ کیا ہے، جس کے بعد حکومت کے ناقدین نے اسے اختلافی آوازوں کو خاموش کرانے کی ایک اور کوشش قرار دیا ہے۔
بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق نوجوان صارفین سوشل میڈیا پر میمز، ویڈیوز اور پوسٹس کے ذریعے مودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے ایسے مواد کی نشاندہی کرکے اسے ہٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
رپورٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ دہلی پولیس آخر کس قانونی اختیار کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں سے مواد ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہے، کیونکہ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے اب تک کوئی واضح قانونی مؤقف یا باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ پہلے بھی اس خدشے کا اظہار کر چکی ہے کہ 2021 میں آئی ٹی قوانین میں کی گئی ترامیم کے بعد بھارتی حکومت کو آن لائن مواد پر غیر معمولی اختیارات حاصل ہوگئے ہیں، جنہیں ناقدین آزادیِ اظہار اور ڈیجیٹل حقوق کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تنقیدی مواد ہٹانے کی یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ نہ صرف بھارت میں جمہوری اقدار اور اظہارِ رائے کی آزادی پر سنگین سوالات اٹھائیں گی بلکہ اس سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوگا کہ مودی حکومت اپنے ناقدین، صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کے لیے اظہارِ رائے کا دائرہ محدود کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات انسانی حقوق، شفاف طرزِ حکمرانی اور جمہوری آزادیوں کے حوالے سے بھارت کی عالمی ساکھ پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔