چار صوبوں کا نظام ملک کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا، نئے انتظامی یونٹس بنانا ہوں گے، مصطفیٰ کمال
ملتان: وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ انتظامی نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا، اس لیے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید انتظامی یونٹس قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انہیں اکیس برس قبل کراچی کا میئر اور بارہ برس قبل رکن صوبائی اسمبلی بنایا گیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ ملک میں ایک ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے جس میں سب آگے بڑھ رہے ہیں مگر بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک وفاق اور چار صوبوں پر مشتمل موجودہ نظام بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا، پاکستان دنیا کے ایک سو اسی سے زائد ممالک سے رقبے اور آبادی کے اعتبار سے بڑا ملک ہے، اس لیے بہتر طرز حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال نے صحت کے شعبے میں درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صرف نئے اسپتال تعمیر کرنا مسائل کا مکمل حل نہیں،ملک کے بیشتر سرکاری اسپتال پہلے ہی مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں، اس لیے بیماریوں کی روک تھام اور بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال کا آغاز بچوں کی پیدائش سے ہی ہونا چاہیے۔ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے اور صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ ملک میں اڑسٹھ فیصد بچے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہیں، پاکستان میں سیوریج کے پانی کو مؤثر انداز میں ٹریٹ کرنے کا نظام بھی موجود نہیں، جس کی وجہ سے صحت کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں شرح پیدائش تین اعشاریہ پانچ فیصد جبکہ معاشی شرح نمو دو اعشاریہ پانچ فیصد ہے، جس کے باعث آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ملک میں ہر سال تقریباً گیارہ ہزار مائیں دوران حمل یا زچگی جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت تقریباً نو لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے، جبکہ عالمی سطح پر پاکستانی نرسوں کی بہت زیادہ مانگ موجود ہے اور دنیا کو تقریباً پچیس لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں کو جدید طبی مہارتیں فراہم کی جائیں تو وہ نہ صرف ملک کے صحت کے نظام کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ بیرون ملک خدمات انجام دے کر قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔
ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی کا اختیار براہ راست وفاقی وزیر صحت کے پاس نہیں بلکہ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کرتی ہے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے چند ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا ہے جبکہ ادویات کی قیمتوں میں کمی کے معاملے پر کابینہ کی ایک خصوصی کمیٹی کام کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ادویات تیار تو کی جاتی ہیں، تاہم ان کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال درآمد کیا جاتا ہے،کئی ضروری ادویات مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہیں، جس کے باعث مریض انہیں بلیک مارکیٹ یا ایجنٹوں کے ذریعے دوگنی قیمت پر خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی مؤثر حکمرانی اور ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے کیونکہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ دونوں وفاقی وزراء کے بیانات کے بعد ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔