غزہ میں فلسطینی اتھارٹی اور حماس کے بجائے ٹیکنوکریٹ حکومت پر غور جاری ہے، امریکی حکام
غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے مجوزہ معاہدے کے بعد امریکی حکام نے کہا ہے کہ علاقے میں فلسطینی اتھارٹی یا حماس کے بجائے ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق غزہ سے متعلق منصوبے پر اسرائیل کے ساتھ قریبی مشاورت جاری ہے، تاہم اسرائیل کو اب بھی حماس کے غیر مسلح ہونے کے حوالے سے تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حماس کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا انحصار تمام طے شدہ شرائط کی تکمیل پر ہوگا، جبکہ غزہ کی تعمیرِ نو کی نگرانی “بورڈ آف پیس” کرے گا۔
حکام نے مزید کہا کہ امریکا کو یقین ہے کہ اسرائیل معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کرے گا، تاہم اگر اسرائیل نے معاہدے کو قبول نہ کیا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس پر مایوسی کا اظہار کریں گے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ “بورڈ آف پیس” نے غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے سے متعلق معاہدہ کر لیا ہے۔ ان کے مطابق جیسے ہی غزہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہوگا، اسرائیلی افواج مرحلہ وار واپس چلی جائیں گی۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس پر مرحلہ وار اور منظم انداز میں عمل درآمد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایک بین الاقوامی استحکام فورس فلسطینی پولیس کے تعاون سے غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔
دوسری جانب “بورڈ آف پیس” کا کہنا ہے کہ غزہ میں تمام عسکری سرگرمیوں کا خاتمہ منصوبے کا لازمی حصہ ہوگا، جبکہ معاہدے کی مکمل شرائط آئندہ دو ہفتوں میں جاری کی جائیں گی۔ بورڈ کے مطابق اسرائیلی فوج کا انخلا بھی مرحلہ وار کیا جائے گا۔