|

فری لانسرز ترسیلات زر بڑھانے میں اہم کردار، گورنر اسٹیٹ بینک کا بیان

کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ فری لانسرز ترسیلات زر میں اضافے کے لیے اسٹیٹ بینک نے متعدد سہولتیں متعارف کرائی ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل معیشت اور فری لانسنگ کے فروغ سے ملک میں قیمتی زرمبادلہ کے حصول میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔

کراچی میں منعقدہ ایک تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے جامع اقدامات جاری ہیں۔ اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک نے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کر رکھی ہے، جو حکومت کے ساتھ مل کر اسلامی مالیاتی نظام کے نفاذ پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں اور فری لانسرز کو جدید مالیاتی سہولتیں فراہم کرنے سے بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق فری لانسرز ترسیلات زر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اس شعبے کی مزید حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تاکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اس موقع پر ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ نے کہا کہ یکم جنوری 2028 سے پاکستان کے مقامی بینک مکمل طور پر شریعہ اصولوں کے مطابق مالیاتی خدمات فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکاری کے نظام کی منتقلی کا عمل مرحلہ وار آگے بڑھ رہا ہے۔

وزیرِ مملکت بلال بن ثاقب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ اچھی ہوتی ہے نہ بری، بلکہ اس کا درست یا غلط استعمال اس کے نتائج کا تعین کرتا ہے۔

دوسری جانب ممتاز عالم دین مفتی منیب الرحمٰن نے ملکی معاشی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مالی حالات میں حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کے مؤثر استعمال اور سود سے پاک نظام کی جانب پیش رفت وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مولانا بشیر فاروقی نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے روایتی بینکوں کے عملے کی تربیت ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سنجیدگی سے اقدامات کرے تو اس شعبے میں تیزی سے پیش رفت ممکن ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *