|

قومی سلامتی: امریکا نے چینی روبوٹس اور روبوٹک ڈاگز کی درآمد روک دی

واشنگٹن: امریکا نے قومی سلامتی سے متعلق خدشات کو بنیاد بناتے ہوئے چین میں تیار ہونے والے ہیومنائیڈ روبوٹس، روبوٹک ڈاگز اور پاور اِنورٹرز کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس فیصلے کو مصنوعی ذہانت اور جدید روبوٹکس کے میدان میں امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کشیدگی کا نیا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (ایف سی سی) کے مطابق یہ اقدام وائٹ ہاؤس کی خصوصی ٹاسک فورس کی سفارشات پر کیا گیا۔

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ بیرون ملک تیار ہونے والے روبوٹ حساس قومی تنصیبات کے لیے سائبر سیکیورٹی خطرات پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ ان پر انحصار سپلائی چین کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر سکتا ہے۔

ایف سی سی کے چیئرمین برینڈن کار نے کہا کہ پابندی کا مقصد امریکی انفرا اسٹرکچر اور اہم صنعتی نظام کو محفوظ بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نئے ماڈلز پر لاگو ہوگا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آئندہ ماہ چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں، جس سے اس فیصلے کی سفارتی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔

تحقیقی اعداد و شمار کے مطابق عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ مارکیٹ میں چین کا حصہ تقریباً 85 فیصد ہے۔

اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی پابندیوں سے چینی کمپنیوں کو ایک بڑی منڈی سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے، تاہم ان کی مجموعی ترقی پر اس کے محدود اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب چین نے امریکی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے تحفظ پسندی قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اپنی کمپنیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے اثرات مصنوعی ذہانت، توانائی اور عالمی ٹیکنالوجی شراکت داریوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *