| |

لاہور میں امریکی خاتون کے 3 بچوں سمیت قتل کی تفتیش: ماں ہی قاتلہ نکلی

لاہور کے علاقے کاہنہ میں امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے 3 بچوں کی ہلاکت کے ہائی پروفائل مقدمے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد پولیس نے اہم تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

حکام کے مطابق شواہد، فرانزک رپورٹ اور ڈیجیٹل ریکارڈ کے تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ خاتون نے اپنے بچوں کو زہر دینے کے بعد خود بھی اپنی جان لے لی، جبکہ اس سلسلے میں دو افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار ملزمان میں ایک آن لائن کیمیکل فروخت کرنے والا دکاندار اور ایک رائیڈر شامل ہے۔ پولیس کے مطابق خاتون نے ایک لاکھ 38 ہزار 540 روپے منی گرام کے ذریعے ادا کرکے پوٹاشیم سائنائیڈ حاصل کیا، جو بعد میں ایک سہیلی کے پتے پر بھجوایا گیا، جب کہ اس خاتون کو پارسل کے اندر موجود کیمیکل سے متعلق معلومات نہیں تھی۔

پولیس کے مطابق خاتون اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ امریکا سے لاہور منتقل ہوئی تھی اور ویلنشیا ٹاؤن میں رہائش پذیر تھی۔

تحقیقات کے مطابق 17 جولائی کو اس نے مبینہ طور پر آئس کریم میں زہر ملا کر اپنے 15 سالہ بیٹے ریحان، 11 سالہ بیٹی اریشا اور 9 سالہ بیٹے ارسل کو کھلایا، جس کے بعد خود بھی وہی آئس کریم کھائی۔ تفتیش کے دوران شوہر کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی کیا گیا، تاہم پولیس کے مطابق اس کے خلاف کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔

ڈی آئی جی کے مطابق خاتون کے موبائل فون سے نومبر سے خودکشی کے طریقوں سے متعلق آن لائن سرچز اور مواد ملا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق خاتون ڈپریشن کا علاج بھی کروا رہی تھی اور ادویات استعمال کرتی تھی۔ حکام نے بتایا کہ چونکہ متاثرہ خاتون امریکی شہری تھی، اس لیے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے بھی اہل خانہ سے رابطہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کا چالان مضبوط شواہد کی بنیاد پر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *