|

نئی تحقیق، تیز رفتار گردش سے نظر نہ آنے والا جدید ڈرون متعارف

ٹیکنالوجی انجینئرز نے ایک ایسا جدید ڈرون تیار کیا ہے جو پرواز کے دوران انسانی آنکھ کو تقریباً غائب محسوس ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی میں ماحول سے چھپانے کے بجائے انسانی بصارت کی حدود سے فائدہ اٹھایا گیا، جس سے ڈرون کی نمایاں موجودگی کم ہو جاتی ہے۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم نے بتایا کہ ماضی میں غیر مرئی ڈرون بنانے کے لیے شفاف مواد، کیموفلاج اور روشنی موڑنے والی تکنیکیں آزمائی جاتی رہی ہیں۔

تاہم اس مرتبہ ’موشن بلر‘ کے بصری اصول کو بنیاد بنایا گیا، جو تیزی سے گھومتی اشیا کو دھندلا دکھاتا ہے۔

’فینٹم ٹوئسٹ‘  نامی یہ ڈرون ایک سیکنڈ میں تقریباً 25 مرتبہ گھومنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی رفتار انسانی آنکھ کے لیے اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ڈرون واضح شکل کے بجائے دھندلے سائے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے وضاحت کی کہ یہ ٹیکنالوجی ڈرون کو مکمل طور پر غیر مرئی نہیں بناتی۔ تاہم مسلسل گردش کے باعث اس کی موجودگی پس منظر میں مدغم محسوس ہوتی ہے، جس سے اسے دیکھنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں اس ڈیزائن کو جنگلی حیات کی نگرانی، ماحولیاتی سروے اور پلوں یا دیگر بنیادی ڈھانچے کے معائنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسے کاموں میں کم بصری مداخلت اہم سمجھی جاتی ہے، اس لیے یہ طریقہ کار مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ تحقیق 16 جولائی کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والی روبوٹکس: سائنس اینڈ سسٹمز 2026 کانفرنس میں پیش کی گئی۔

تحقیقی سربراہ مائیکل روبن اسٹین نے کہا کہ ان کی ٹیم نے پہلی بار ڈرون کو ماحول کے بجائے انسانی بصارت کے مطابق ڈیزائن کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *