نیپال میں تباہ

نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 750 تک پہنچ گئیں، 3 ہزار افراد تاحال لاپتا

کھٹمنڈو: نیپال میں تباہ کن سیلاب اور سیلابی ریلوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 750 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 3 ہزار افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ سیلابی پانی اپنے ساتھ متعدد لاشیں بہا کر متاثرہ علاقوں سے دور لے گیا، جس کے باعث مزید ہلاکتیں سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ کئی افراد کی لاشیں سیلابی ریلے میں بہہ کر متاثرہ علاقوں سے تقریباً 100 کلومیٹر دور واقع میدانی علاقوں سے برآمد ہوئی ہیں۔ امدادی اور تلاش کا عمل جاری ہے اور حکام کو خدشہ ہے کہ سیلابی پانی اترنے کے بعد مزید لاشیں مل سکتی ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں لاپتا ہونے والے افراد میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد بھارت سے نیپال آنے والے ہندو یاتریوں کی بتائی جاتی ہے۔ یہ افراد مقدس مقامات کیلاش اور مانسرور کے سفر پر تھے اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سیکڑوں بھارتی شہری اور بھارتی نژاد افراد بھی تاحال لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے متعلقہ ادارے نیپالی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ لاپتا افراد کی بڑی تعداد کے باعث امدادی کارروائیوں کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

قدرتی آفت نے نیپال کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ سیلابی پانی نے اسکولوں، اسپتالوں، پن بجلی گھروں، شاہراہوں، پلوں اور دیگر اہم تنصیبات کو شدید متاثر کیا، جس سے کئی علاقوں میں معمولات زندگی بری طرح درہم برہم ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب تبت میں بھی سیلاب کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق وہاں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی ہے، جبکہ سیکڑوں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

نیپالی حکومت نے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے بعد عالمی برادری سے فوری مدد کی اپیل کردی ہے۔ نیپالی وزیر خزانہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے تقریباً 4 سے 5 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جس کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔

عالمی سطح پر بھی نیپال کے لیے امداد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ یورپی یونین نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد اور ہنگامی ضروریات پوری کرنے کے لیے 20 لاکھ یورو جبکہ امریکا نے 36 لاکھ ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے باعث متاثرہ علاقوں کی بحالی ایک طویل اور مشکل مرحلہ ہوگا، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرین تک امداد پہنچانا اس وقت سب سے اہم ترجیح ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *